سیلایانگ: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ریاست سیلانگور کے علاقے باتو کیوز میں ایک کارروائی کے دوران ایسے غیر ملکیوں کو حراست میں لیا ہے جن ...
سیلایانگ: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ریاست سیلانگور کے علاقے باتو کیوز میں ایک کارروائی کے دوران ایسے غیر ملکیوں کو حراست میں لیا ہے جن میں سے بعض نے دعویٰ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کا کارڈ حاصل کرنے کے عمل سے گزر رہے ہیں، تاہم ابتدائی تحقیقات میں ان کے سفری اور امیگریشن دستاویزات میں مختلف بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کارروائی ایک تین منزلہ رہائشی عمارت میں کی گئی جہاں متعدد غیر ملکی شہری مقیم تھے۔ کارروائی کے دوران ایک غیر ملکی شخص نے امیگریشن حکام کو بتایا کہ وہ اپنے آبائی ملک کے حالات کی وجہ سے یو این ایچ سی آر کارڈ کے لیے درخواست دے چکا ہے اور اس کا معاملہ زیرِ غور ہے۔
اس شخص نے بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ اور دو بچوں کے ساتھ رہ رہا تھا۔ تاہم حکام کی جانب سے دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران معلوم ہوا کہ اس کا پاسپورٹ مدت ختم ہونے کے بعد بھی استعمال کیا جا رہا تھا اور وہ ملک میں قیام کے لیے درکار قانونی دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہا۔
جائے وقوعہ کے معائنے سے معلوم ہوا کہ مذکورہ تین منزلہ فلیٹ میں مجموعی طور پر چار رہائشی یونٹس موجود تھے جبکہ ہر منزل پر دو مکانات واقع تھے۔ اطلاعات کے مطابق ان یونٹس کو مقامی اور غیر ملکی افراد کو کرائے پر دیا گیا تھا۔
ذرائع کے مطابق ہر رہائشی یونٹ تقریباً 600 رنگٹ ماہانہ کرائے پر دیا جا رہا تھا اور خیال کیا جاتا ہے کہ جائیداد کا مالک ایک مقامی شہری ہے۔ امیگریشن حکام نے اس پہلو کو بھی تحقیقات کا حصہ بنایا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا رہائش فراہم کرنے والے افراد امیگریشن قوانین کی مکمل پابندی کر رہے تھے یا نہیں۔
محکمہ امیگریشن سیلانگور نے اپنے بیان میں کہا کہ کارروائی کے دوران مجموعی طور پر نو غیر ملکیوں کی جانچ پڑتال کی گئی اور بعد ازاں تمام افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد میں ایک پاکستانی مرد، ایک پاکستانی خاتون، ایک پاکستانی لڑکا، ایک پاکستانی لڑکی، چار سری لنکن مرد اور ایک بنگلہ دیشی شہری شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ابتدائی تحقیقات کے دوران بعض افراد پر امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 6(1)(سی) کے تحت ملک میں بغیر قانونی سفری دستاویزات یا درست ویزا کے قیام کا شبہ ظاہر ہوا۔ اس کے علاوہ کچھ افراد پر دفعہ 15(1)(سی) کے تحت مقررہ مدت سے زیادہ عرصہ ملک میں قیام کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔
تمام زیرِ حراست افراد کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے محکمہ امیگریشن سیلانگور کے دفتر منتقل کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہر کیس کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے گا اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر مناسب قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
محکمہ امیگریشن نے واضح کیا کہ یو این ایچ سی آر کارڈ کے حصول کے لیے درخواست دینے کا دعویٰ خود بخود کسی شخص کو امیگریشن قوانین سے استثنا نہیں دیتا۔ ملک میں موجود ہر غیر ملکی کو درست سفری اور قانونی دستاویزات رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ محکمہ امیگریشن ملک بھر میں نفاذی کارروائیاں جاری رکھے گا تاکہ ایسے افراد کی نشاندہی کی جا سکے جو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں یا غیر قانونی طور پر ملک میں مقیم ہیں۔
حکام نے عوام اور جائیداد مالکان کو بھی خبردار کیا کہ وہ ایسے افراد کو رہائش فراہم کرنے یا ان کی مدد کرنے سے گریز کریں جن کے پاس قانونی امیگریشن دستاویزات موجود نہ ہوں۔ محکمہ کے مطابق غیر قانونی تارکینِ وطن کو پناہ دینے، چھپانے یا سہولت فراہم کرنے والے افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
پس منظر کے طور پر، ملائیشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران امیگریشن قوانین پر عمل درآمد مزید سخت کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ملک میں موجود غیر ملکیوں کا درست ریکارڈ برقرار رکھنا، عوامی سلامتی کو یقینی بنانا اور امیگریشن قوانین کی مؤثر نگرانی کرنا ہے۔

COMMENTS