پیٹالنگ جایا: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے سیپانگ، سلانگور میں کارروائی کرتے ہوئے 13 غیر ملکیوں کو حراست میں لیا ہے، جن پر شبہ ہے کہ وہ مق...
پیٹالنگ جایا: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے سیپانگ، سلانگور میں کارروائی کرتے ہوئے 13 غیر ملکیوں کو حراست میں لیا ہے، جن پر شبہ ہے کہ وہ مقامی شہریوں کے نام پر رجسٹرڈ کاروباری لائسنس استعمال کرتے ہوئے کاروبار چلا رہے تھے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف جاری مہم کا حصہ تھی۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکر جنرل داتوک ذکریا شعبان نے ایک بیان میں کہا کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ کئی کریانہ اسٹورز اور منی مارکیٹس ایسے کاروباری لائسنسوں کے تحت چلائے جا رہے تھے جو بظاہر ملائیشین شہریوں کے نام پر رجسٹرڈ تھے، لیکن ان کی روزمرہ سرگرمیاں مکمل طور پر غیر ملکی افراد کے زیر انتظام تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ بعض دکانوں میں ایسے سامان اور مصنوعات فروخت کی جا رہی تھیں جو خاص طور پر غیر ملکی گاہکوں، بالخصوص بنگلہ دیشی شہریوں، کو مدنظر رکھ کر رکھی گئی تھیں۔ حکام نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بعض مقامات پر کیو آر کوڈ ادائیگی کے نظام استعمال کیے جا رہے تھے، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ غیر ملکی افراد کے بینک اکاؤنٹس سے منسلک تھے۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق یہ چھاپے منگل کی صبح تقریباً 10:20 بجے شروع کیے گئے، جن کے دوران مجموعی طور پر چھ کاروباری مراکز کا معائنہ کیا گیا۔ ان مراکز میں کریانہ اسٹورز اور منی مارکیٹس شامل تھیں۔
کارروائی کے نتیجے میں 13 غیر ملکی افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں آٹھ انڈونیشی مرد، دو انڈونیشی خواتین اور تین بنگلہ دیشی مرد شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ افراد مبینہ طور پر اپنے سوشل وزٹ پاس کے ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
ذکریا شعبان کے مطابق گرفتار افراد کو مزید تحقیقات کے لیے پوتراجایا امیگریشن ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہیں امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 51(5)(بی) کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے جبکہ مختلف قوانین کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کے مطابق کیس کی تحقیقات امیگریشن ایکٹ 1959/63، پاسپورٹ ایکٹ 1966 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت کی جا رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر انسانی اسمگلنگ یا تارکین وطن کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق شواہد سامنے آئے تو اینٹی ٹریفکنگ اِن پرسنز اینڈ اینٹی اسمگلنگ آف مائیگرنٹس ایکٹ 2007 کے تحت بھی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ملائیشیا میں کاروباری لائسنسوں کے غلط استعمال کا مسئلہ ماضی میں بھی حکام کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ بعض معاملات میں غیر ملکی افراد مقامی شہریوں کے نام استعمال کرکے کاروبار چلاتے پائے گئے ہیں، جس سے نہ صرف کاروباری ضوابط متاثر ہوتے ہیں بلکہ ٹیکس، روزگار اور امیگریشن قوانین پر عملدرآمد بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔
محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ ملک میں غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ جو بھی افراد یا ادارے غیر قانونی طور پر غیر ملکیوں کو کاروباری سرگرمیوں میں شامل کریں گے یا قوانین کی خلاف ورزی کریں گے، ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
محکمہ نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ امیگریشن قوانین کا نفاذ صرف غیر قانونی ملازمت یا قیام تک محدود نہیں بلکہ کاروباری سرگرمیوں میں ضابطوں کی پابندی کو یقینی بنانا بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف ریاستوں میں نگرانی اور انسپیکشن کا سلسلہ جاری رکھا جا رہا ہے۔

COMMENTS