کوتا کنابالو، 9 جون 2026: ملائیشیا کی ریاست صباہ میں ایک جرمن شہری کو غیر قانونی طور پر داخل ہونے اور امیگریشن افسر کی سرکاری ذمہ داریوں ...
کوتا کنابالو، 9 جون 2026: ملائیشیا کی ریاست صباہ میں ایک جرمن شہری کو غیر قانونی طور پر داخل ہونے اور امیگریشن افسر کی سرکاری ذمہ داریوں میں رکاوٹ ڈالنے کے الزام میں عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ مقدمے کی سماعت سیشنز کورٹ کوتا کنابالو میں ہوئی جہاں ملزم کے خلاف امیگریشن قوانین کے تحت دو الزامات عائد کیے گئے۔
37 سالہ جرمن شہری کیوچوئک بوگا سلیمان کے بارے میں عدالت کو بتایا گیا کہ وہ صباہ میں داخلے کے وقت درست سفری دستاویزات فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ تاہم، عدالت میں ان کا باقاعدہ بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکا کیونکہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ عائد کیے گئے الزامات کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکے، حالانکہ عدالت میں مترجم بھی موجود تھا۔
ملزم نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنے دفاع کے لیے وکیل مقرر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت کے لیے 22 جون کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے ملزم کو ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق پہلا الزام یہ ہے کہ ملزم نے 27 اپریل کو محکمہ امیگریشن صباہ کے دفتر، جالان یو ایم ایس میں بغیر کسی درست سفری دستاویز کے ریاست میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ یہ الزام امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 6(1)(سی) کے تحت عائد کیا گیا ہے۔
ملزم کے خلاف دوسرا الزام 5 مئی کے واقعے سے متعلق ہے، جس میں ان پر ایک امیگریشن افسر کو اپنا بیان ریکارڈ کرنے سے روکنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ عمل امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے اور اس کے لیے امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 56(جی)(1) کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
ملائیشیا میں امیگریشن قوانین کے مطابق ملک یا کسی مخصوص ریاست میں داخل ہونے کے لیے غیر ملکی شہریوں کے پاس درست سفری اور امیگریشن دستاویزات کا ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح امیگریشن افسران کو تحقیقات یا قانونی کارروائی کے دوران معلومات فراہم کرنے میں رکاوٹ ڈالنا بھی ایک قابلِ تعزیر جرم تصور کیا جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں ملائیشیا کے مختلف حصوں میں امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کو مزید سخت بنایا گیا ہے۔ حکام غیر قانونی داخلے، ویزا شرائط کی خلاف ورزی، جعلی دستاویزات کے استعمال اور دیگر متعلقہ جرائم کے خلاف باقاعدگی سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد سرحدی سلامتی کو مضبوط بنانا اور امیگریشن نظام کی شفافیت برقرار رکھنا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق ایسے مقدمات میں عدالت پہلے الزامات کی نوعیت، شواہد اور ملزم کے موقف کا جائزہ لیتی ہے، جس کے بعد باقاعدہ فرد جرم عائد کرنے اور مقدمے کی سماعت کے اگلے مراحل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ موجودہ کیس میں بھی عدالت نے ملزم کو قانونی نمائندگی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا ہے تاکہ وہ اپنے دفاع کی تیاری کر سکے۔
حکام کی جانب سے اس معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں جبکہ عدالت میں آئندہ سماعت کے دوران مقدمے کی پیش رفت اور ملزم کا باضابطہ مؤقف سامنے آنے کا امکان ہے۔

COMMENTS