جوہور بہرو: ملائیشیا کے صوبے جوہور میں امیگریشن حکام نے غیر ملکی کارکنوں کے لیے جاری کیے جانے والے عارضی ورک پرمٹ کے مبینہ غلط استعمال میں ...
جوہور بہرو: ملائیشیا کے صوبے جوہور میں امیگریشن حکام نے غیر ملکی کارکنوں کے لیے جاری کیے جانے والے عارضی ورک پرمٹ کے مبینہ غلط استعمال میں ملوث دو گروہوں کا سراغ لگا کر ان کے خلاف کارروائی کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ گروہ غیر ملکی کارکنوں کو قانونی طور پر منظور شدہ کمپنیوں کے نام پر حاصل کرتے تھے، لیکن بعد میں انہیں منافع کے لیے دیگر آجروں کو فراہم کر دیتے تھے۔
جوہور امیگریشن ڈائریکٹر داتوک محمد روسدی محمد داروس نے بتایا کہ دونوں کارروائیاں گزشتہ ہفتے مختلف مقامات پر کی گئیں۔ تحقیقات کے مطابق متعلقہ کمپنیوں کے پاس غیر ملکی کارکنوں کے لیے منظور شدہ کوٹہ موجود تھا، تاہم کارکنوں کو ان کمپنیوں میں تعینات کرنے کے بجائے مختلف شعبوں، خصوصاً مینوفیکچرنگ اور تعمیراتی صنعت سے وابستہ دیگر اداروں کو فراہم کیا جا رہا تھا۔
پہلی کارروائی، جسے "اوپس سرکاپ" کا نام دیا گیا، 4 جون کو پانڈن ٹریڈ سینٹر میں واقع ایک غیر ملکی کارکنوں کے انتظامی ادارے کے دفتر میں کی گئی۔ چھاپے کے دوران 33 سالہ بنگلہ دیشی شہری کو حراست میں لیا گیا جو مبینہ طور پر مقررہ مدت سے زیادہ عرصے سے ملائیشیا میں مقیم تھا۔
حکام نے کارروائی کے دوران 36 بنگلہ دیشی اور بھارتی پاسپورٹس کے علاوہ 5 ہزار رنگٹ نقد رقم بھی ضبط کی، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا گیا کہ یہ غیر قانونی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حصہ ہے۔ گرفتار شخص کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور پاسپورٹ ایکٹ 1966 کی متعلقہ دفعات کے تحت تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری کارروائی 9 جون کو تمان سیٹیا ٹروپیکا میں واقع ایک ایجنسی دفتر اور تمان کمپاس اوتما کے دو اپارٹمنٹس میں کی گئی۔ اس کارروائی کے دوران دو ایجنٹس اور چار غیر ملکی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا جو مبینہ طور پر ویزا اور قیام کی شرائط کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
اس آپریشن کے دوران حکام نے 48 بنگلہ دیشی پاسپورٹس، 4,300 رنگٹ نقد رقم اور دو گاڑیاں بھی قبضے میں لے لیں۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ گروہ جوہور بھر میں تقریباً 500 غیر ملکی کارکن مختلف کمپنیوں کو فراہم کر چکا تھا۔
حکام کے مطابق اس غیر قانونی سرگرمی سے گروہ کو ہر ماہ تقریباً 225,000 رنگٹ تک منافع حاصل ہونے کا امکان ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ غیر قانونی افرادی قوت کی فراہمی بعض حلقوں کے لیے ایک منافع بخش کاروبار بن چکی ہے، جس پر امیگریشن حکام مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے لیے مخصوص قوانین اور ضوابط موجود ہیں۔ ان قوانین کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کارکن صرف ان کمپنیوں میں کام کریں جن کے لیے انہیں اجازت دی گئی ہو۔ اگر کارکنوں یا ان کے ورک پرمٹس کو غیر مجاز طریقے سے منتقل کیا جائے تو یہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی شمار ہوتی ہے۔
جوہور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے عوام سے بھی تعاون کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ اگر کسی کو غیر قانونی ایجنٹس، جعلی بھرتی نیٹ ورکس یا غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کے حوالے سے معلومات حاصل ہوں تو وہ متعلقہ حکام کو آگاہ کریں تاکہ مزید مؤثر کارروائی کی جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ریاست بھر میں ایسے نیٹ ورکس کے خلاف نگرانی اور آپریشنز جاری رہیں گے تاکہ غیر قانونی افرادی قوت کی فراہمی، ویزا کی خلاف ورزیوں اور متعلقہ جرائم کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔

COMMENTS