جوہر بہرو: ملائیشیا کی ریاست جوہر میں ایک پرائمری اسکول کے 28 سالہ استاد کو ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور قابل اعتراض مواد رکھنے ...
جوہر بہرو: ملائیشیا کی ریاست جوہر میں ایک پرائمری اسکول کے 28 سالہ استاد کو ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی اور قابل اعتراض مواد رکھنے کے الزامات کے تحت مختلف عدالتوں میں پیش کیا گیا ہے۔ ملزم نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات سے انکار کرتے ہوئے بے گناہی کی درخواست دی ہے۔
عدالتی کارروائی کے مطابق ملزم، محمد امیرال اوانگ میران، اس وقت جوہر کے علاقے مسائی میں واقع ایک پرائمری اسکول میں تدریسی فرائض انجام دے رہا ہے۔ مقدمے نے عوامی توجہ حاصل کی ہے کیونکہ الزامات ایک طالبہ سے متعلق ہیں اور ملزم ایک تعلیمی ادارے سے وابستہ ہے۔
استغاثہ کے مطابق ملزم پر سات الزامات عائد کیے گئے ہیں جن کا تعلق ایک طالبہ کے ساتھ مبینہ جسمانی جنسی زیادتی سے ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق متاثرہ طالبہ کی عمر ان واقعات کے آغاز کے وقت تقریباً 11 سال تھی۔
الزامات کے مطابق مبینہ واقعات فروری 2024 سے اگست 2025 کے درمیان مختلف اوقات میں پیش آئے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ واقعات مسائی پلے گراؤنڈ کے پارکنگ ایریا میں کھڑی ایک گاڑی کے اندر ہوئے تھے۔ تفتیشی ریکارڈ کے مطابق 2025 کے دوران بھی اسی نوعیت کے مزید مبینہ واقعات سامنے آئے۔
یہ الزامات بچوں کے خلاف جنسی جرائم سے متعلق 2017 کے قانون کی دفعہ 14(a) اور متعلقہ قانونی دفعات کے تحت عائد کیے گئے ہیں۔ اس قانون کا مقصد بچوں کو جنسی استحصال اور بدسلوکی سے تحفظ فراہم کرنا ہے اور اس کے تحت سنگین نوعیت کی سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔
علاوہ ازیں، ایک علیحدہ عدالتی کارروائی میں ملزم پر دو مزید الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ ان الزامات کے مطابق اس کے موبائل فونز سے مبینہ طور پر قابل اعتراض اور فحش مواد برآمد ہوا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ مئی 2026 میں مسائی کے ایک صنعتی علاقے میں سامنے آیا۔
فحش مواد رکھنے سے متعلق الزامات تعزیراتِ ملائیشیا کی دفعہ 292(a) کے تحت درج کیے گئے ہیں۔ قانون کے مطابق جرم ثابت ہونے کی صورت میں قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
عدالت میں سرکاری وکلاء نے ضمانت کے لیے 20 ہزار رنگٹ مقرر کرنے اور اضافی شرائط عائد کرنے کی درخواست کی۔ دوسری جانب دفاعی وکیل نے عدالت سے نرم رویہ اختیار کرنے کی استدعا کی۔
دفاعی وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزم کی ماہانہ آمدنی تقریباً 3 ہزار رنگٹ ہے اور وہ ترنگانو میں مقیم اپنے خاندان کی مالی معاونت کرتا ہے۔ وکیل نے مزید بتایا کہ ملزم ایک زیر تعلیم چھوٹے بہن بھائی کی کفالت بھی کر رہا ہے۔
دفاع کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ ملزم کو درمیانے درجے کے ڈپریشن کی تشخیص ہو چکی ہے، جسے ضمانت کی درخواست میں مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے مختلف مقدمات میں مجموعی طور پر ضمانت مقرر کی۔ سیشنز کورٹ میں 10 ہزار رنگٹ جبکہ دیگر متعلقہ عدالتوں میں 3 ہزار اور 6 ہزار رنگٹ کی اضافی ضمانت مقرر کی گئی۔
عدالت نے ملزم پر کئی سخت شرائط بھی عائد کیں۔ ان میں متاثرہ طالبہ اور گواہوں سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہ کرنا، انہیں ہراساں نہ کرنا، ہر ماہ پولیس کو رپورٹ کرنا اور پاسپورٹ موجود ہونے کی صورت میں جمع کرانا شامل ہے۔
عدالت نے مقدمے کی آئندہ سماعت اور دستاویزات جمع کرانے کے لیے 13 جولائی کی تاریخ مقرر کی ہے۔ قانونی کارروائی جاری ہے اور عدالت کی جانب سے جرم ثابت ہونے تک ملزم کو قانوناً بے گناہ تصور کیا جائے گا۔
اس کیس نے ایک بار پھر تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ، نگرانی کے نظام اور حفاظتی اقدامات کے حوالے سے عوامی توجہ مبذول کرائی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات میں مکمل قانونی عمل، شفاف تحقیقات اور متاثرہ افراد کے تحفظ کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔

COMMENTS