کوالالمپور: ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور کے علاقے پودو میں امیگریشن حکام نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران 186 غیر قانونی تارکینِ وطن ...
کوالالمپور: ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور کے علاقے پودو میں امیگریشن حکام نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران 186 غیر قانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ہفتہ کی علی الصبح ایک عمارت میں کی گئی جہاں بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری مقیم تھے۔
کوالالمپور امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق کارروائی کے دوران مجموعی طور پر 320 غیر ملکی افراد کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں سے 186 افراد کو مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے شبے میں حراست میں لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بعض افراد اپنے ویزے یا قیام کی مقررہ مدت سے زیادہ عرصے تک ملک میں موجود تھے جبکہ کچھ کے پاس سفری دستاویزات یا قانونی اجازت نامے موجود نہیں تھے۔
حکام کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد میں سب سے زیادہ تعداد بنگلہ دیشی شہریوں کی تھی۔ مجموعی طور پر 118 بنگلہ دیشی مردوں کو حراست میں لیا گیا۔ اس کے علاوہ 28 انڈونیشی شہری بھی گرفتار کیے گئے جن میں سات مرد اور 21 خواتین شامل ہیں۔
کارروائی کے دوران 26 میانمار کے شہری بھی گرفتار ہوئے جن میں 13 مرد اور 13 خواتین شامل تھیں۔ اسی طرح پانچ ویتنامی شہری، چار نیپالی، دو بھارتی، دو چینی اور ایک پاکستانی شہری بھی زیر حراست افراد میں شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ آپریشن رات 12 بج کر 5 منٹ پر شروع کیا گیا تھا۔ کارروائی میں مختلف سرکاری اداروں کے مجموعی طور پر 137 افسران اور اہلکاروں نے حصہ لیا۔ ان اداروں میں امیگریشن ڈیپارٹمنٹ، پولیس، کوالالمپور سٹی ہال (ڈی بی کے ایل) اور نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ شامل تھے۔
ملائیشیا میں غیر قانونی امیگریشن اور دستاویزات کے بغیر قیام کے خلاف وقتاً فوقتاً ایسی مشترکہ کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد ملک میں امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا، غیر قانونی روزگار کے مسائل پر قابو پانا اور عوامی نظم و نسق کو برقرار رکھنا ہے۔
ماہرین کے مطابق ملائیشیا میں تعمیرات، خدمات اور دیگر شعبوں میں غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے، تاہم قانونی دستاویزات کے بغیر قیام یا کام کرنے والے افراد کے خلاف کارروائیاں باقاعدگی سے جاری رہتی ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام غیر ملکی شہریوں کو ملکی قوانین کے مطابق درست سفری اور امیگریشن دستاویزات اپنے پاس رکھنا ضروری ہے۔
امیگریشن حکام نے بتایا کہ گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے امیگریشن حراستی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی دستاویزات اور قانونی حیثیت کی مزید جانچ کی جائے گی۔ بعد ازاں متعلقہ قوانین کے تحت ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
حکام نے عوام اور کاروباری اداروں کو بھی یاد دہانی کرائی ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی خدمات حاصل کرتے وقت ان کے قانونی ورک پرمٹ اور امیگریشن دستاویزات کی تصدیق کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

COMMENTS