لنکاوی: ملائیشیا کے جزیرہ لنکاوی میں محکمہ امیگریشن کی جانب سے مختلف کاروباری مراکز پر کیے گئے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران 17 غیر قانونی تار...
لنکاوی: ملائیشیا کے جزیرہ لنکاوی میں محکمہ امیگریشن کی جانب سے مختلف کاروباری مراکز پر کیے گئے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران 17 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد پر مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کا شبہ ہے۔
محکمہ امیگریشن ملائیشیا کی ریاست کداح شاخ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ "اوپس ماہر"، "اوپس سلیرا" اور "اوپس ساپو" نامی کارروائیاں گزشتہ روز صبح 9:40 بجے شروع کی گئیں۔ یہ کارروائیاں خفیہ معلومات اور عوامی شکایات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئیں۔
بیان کے مطابق آپریشن کے دوران لنکاوی کے مختلف علاقوں میں واقع آٹھ کاروباری مراکز کا معائنہ کیا گیا۔ ان مراکز میں مختلف تجارتی شعبوں اور ملازمتوں سے وابستہ افراد کام کر رہے تھے۔
حکام نے بتایا کہ مجموعی طور پر 54 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی جن میں مقامی شہریوں کے ساتھ مختلف ممالک کے غیر ملکی بھی شامل تھے۔ تحقیقات کے نتیجے میں 17 افراد کو حراست میں لیا گیا جو مبینہ طور پر امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کی خلاف ورزیوں میں ملوث پائے گئے۔
گرفتار ہونے والوں کی عمریں 19 سے 35 سال کے درمیان ہیں۔ ان میں 9 مرد اور 8 خواتین شامل ہیں۔ قومی شناخت کے لحاظ سے چھ مرد تھائی لینڈ، دو مرد اور آٹھ خواتین میانمار جبکہ ایک مرد پاکستان کا شہری ہے۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ گرفتار افراد میں سے بعض کے پاس درست سفری دستاویزات یا قانونی اجازت نامے موجود نہیں تھے، جبکہ کچھ افراد مقررہ مدت سے زائد عرصے تک ملائیشیا میں مقیم رہے۔ بعض پر ویزا یا پاس کی شرائط کی خلاف ورزی کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔
محکمہ امیگریشن نے مزید بتایا کہ آپریشن کے دوران ایک آئی ایم ایم-29 فارم بھی جاری کیا گیا، جو گواہوں سے مزید معلومات حاصل کرنے اور تفتیش میں معاونت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تمام گرفتار غیر ملکیوں کو مزید دستاویزی کارروائی، شناختی تصدیق اور قانونی تحقیقات کے لیے لنکاوی امیگریشن آفس منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جائے گی۔
ملائیشیا میں حالیہ برسوں کے دوران غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف نگرانی اور قانون نافذ کرنے کے اقدامات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ محکمہ امیگریشن مختلف ریاستوں میں باقاعدگی سے ایسے آپریشنز انجام دیتا ہے تاکہ ملک میں موجود غیر ملکی کارکنوں اور رہائشیوں کی قانونی حیثیت کی جانچ کی جا سکے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی موجودگی ملکی معیشت کے بعض شعبوں کے لیے اہم ہے، تاہم تمام غیر ملکیوں کے لیے قانونی دستاویزات، درست ورک پرمٹ اور امیگریشن قوانین کی پابندی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف ریاستوں میں وقتاً فوقتاً مشترکہ کارروائیاں کی جاتی ہیں تاکہ غیر قانونی قیام اور ملازمت کے معاملات کو روکا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ عوامی تعاون اور خفیہ معلومات ایسے آپریشنز کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے شہریوں سے بھی اپیل کی جاتی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا غیر قانونی ملازمت سے متعلق معلومات متعلقہ اداروں تک پہنچائیں۔

COMMENTS