کوتا بھارو: ملائیشیا کی ریاست کلانتن میں ایک مقامی خاتون اور اس کے پاکستانی شوہر کو اسمگل شدہ سگریٹ ذخیرہ کرنے اور فروخت کرنے کے شبے میں گر...
کوتا بھارو: ملائیشیا کی ریاست کلانتن میں ایک مقامی خاتون اور اس کے پاکستانی شوہر کو اسمگل شدہ سگریٹ ذخیرہ کرنے اور فروخت کرنے کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا۔ کارروائی کے دوران حکام نے تقریباً 19,600 سگریٹ برآمد کیے جن کی مالیت 36,748 رنگٹ بتائی گئی ہے۔
حکام کے مطابق 39 سالہ مقامی خاتون اور اس کا 31 سالہ پاکستانی شوہر گزشتہ روز شام تقریباً 5 بج کر 15 منٹ پر کمپونگ بنجائی مانیس کے ایک مکان سے گرفتار کیے گئے۔ یہ کارروائی بٹالین 8 پاسوکان جراکان عام (پی جی اے) کی جانب سے "اوپ تارنگ واواسن کلانتن" کے تحت خفیہ اطلاع ملنے کے بعد انجام دی گئی۔
بریگیڈ تنگارا پی جی اے کے کمانڈر، سینئر اسسٹنٹ کمشنر احمد رضی حسین نے بتایا کہ آپریشن ٹیم جب موقع پر پہنچی تو گھر کے سامنے ایک مرد اور ایک خاتون مشتبہ حالت میں موجود تھے۔ ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران دونوں نے خود کو مکان کا کرایہ دار ظاہر کیا جس کے بعد گھر کی تلاشی لی گئی۔
تلاشی کے دوران حکام نے 19,400 سے زائد سفید اور کریٹیک قسم کے سگریٹ برآمد کیے جن پر قانونی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا تھا۔ برآمد شدہ سگریٹ کی مجموعی مالیت 36,748 رنگٹ لگائی گئی ہے۔
احمد رضی حسین کے مطابق دونوں ملزمان کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 28 اے کے تحت گرفتار کیا گیا جبکہ ضبط شدہ سامان کو مزید قانونی کارروائی کے لیے ضلعی پولیس ہیڈکوارٹر کوتا بھارو منتقل کر دیا گیا۔ مقدمے کی تحقیقات کسٹمز ایکٹ 1967 کی دفعہ 135(1)(ای) کے تحت جاری ہیں۔
ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ مقامی خاتون گھر کرائے پر لینے اور اسمگل شدہ سگریٹ محفوظ رکھنے میں اپنے پاکستانی شوہر کی مدد کرتی تھی۔ حکام کے مطابق یہ جوڑا ایک اور پاکستانی شہری کے ساتھ بھی منسلک تھا جو جالان بکیت مارک کے علاقے میں واقع اپنی کریانہ دکان کے ذریعے سگریٹ فروخت کرتا تھا۔
تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ گرفتار پاکستانی شہری اپنے مبینہ آجر کی جانب سے سگریٹ کی ترسیل اور نگرانی کا کام انجام دیتا تھا جس کے عوض اسے ماہانہ 1,500 رنگٹ اجرت دی جاتی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی سگریٹ ایک دوسرے سپلائر کے ذریعے حاصل کیے جاتے تھے، جس کی شناخت اور گرفتاری کے لیے مزید تفتیش جاری ہے۔
ملائیشیا میں غیر قانونی اور ٹیکس سے بچائے گئے سگریٹوں کی فروخت حکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ متعلقہ ادارے وقتاً فوقتاً مختلف ریاستوں میں آپریشنز کے ذریعے اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں کرتے رہتے ہیں تاکہ قومی آمدنی کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کا سدباب کیا جا سکے۔
حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر انہیں کسی مشتبہ سرگرمی یا غیر قانونی تجارت کے بارے میں معلومات ہوں تو وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری اطلاع دیں تاکہ مؤثر کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

COMMENTS