کوالالمپور: کئی سالوں سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے یورپ جانے والے مسافر عموماً سنگاپور، بینکاک یا مشرقِ وسطیٰ کے بڑے ہوائی اڈوں کو ٹرانزٹ ...
کوالالمپور: کئی سالوں سے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے یورپ جانے والے مسافر عموماً سنگاپور، بینکاک یا مشرقِ وسطیٰ کے بڑے ہوائی اڈوں کو ٹرانزٹ مرکز کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں، تاہم حالیہ مہینوں میں کوالالمپور ایک اہم متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔
ملائیشیا ایوی ایشن گروپ (ایم اے جی) کے مطابق یورپ جانے والے مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اب کوالالمپور کے ذریعے سفر کو ترجیح دے رہی ہے۔ اس رجحان کے باعث ملائیشیا ایئرلائنز کی کوالالمپور سے لندن جانے والی پروازوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں مسافروں کی اوسط تعداد 95 فیصد سے زائد رہی ہے۔
ملائیشیا ایوی ایشن گروپ کے صدر اور گروپ چیف ایگزیکٹو آفیسر کیپٹن نصارالدین اے بکر نے بتایا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے یورپ جانے والے مسافروں میں کوالالمپور کے راستے سفر کرنے کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق رواں سال مارچ اور اپریل کے دوران یہ رجحان خاص طور پر نمایاں رہا، جب مشرقِ وسطیٰ کے بعض ہوائی اڈوں کی بندش کے باعث متبادل ٹرانزٹ راستوں کی ضرورت محسوس کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی چند مہینوں میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے یورپ جانے والے مسافروں کی بڑی تعداد نے کوالالمپور کو ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر منتخب کیا۔ اس صورتحال نے نہ صرف ملائیشیا ایئرلائنز بلکہ کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ (کے ایل آئی اے) کے لیے بھی اضافی تیاریوں کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔
بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ملائیشیا ایئرلائنز نے لندن کے لیے اضافی پروازیں بھی چلائیں۔ تاہم کمپنی کے مطابق اس وقت لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر محدود سلاٹس دستیاب ہونے کی وجہ سے مزید شیڈول پروازوں کا اضافہ ممکن نہیں ہے۔ ایئرلائن حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ آپریشنز کے باوجود لندن روٹ پر طلب مسلسل مضبوط ہے۔
ملائیشیا ایئرلائنز صرف پروازوں میں اضافہ ہی نہیں کر رہی بلکہ ملک کے ہوابازی کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے وزارتِ ٹرانسپورٹ، سول ایوی ایشن اتھارٹی آف ملائیشیا (سی اے اے ایم) اور ملائیشیا ایئرپورٹس ہولڈنگز برہاد (ایم اے ایچ بی) کے ساتھ بھی تعاون کر رہی ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ کوالالمپور کو ایک مؤثر علاقائی ٹرانزٹ مرکز بنانے کے لیے مسافروں کو بہتر سفری تجربہ فراہم کرنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت پروازوں کے درمیان رابطے کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ آسٹریلیا اور یورپ کے درمیان سفر کرنے والے مسافروں کو تقریباً تین گھنٹے کے اندر آسان ٹرانزٹ سہولت میسر آ سکے۔
حکام کے مطابق صرف ٹرانزٹ مسافروں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں بلکہ انہیں ملائیشیا میں مختصر قیام پر بھی آمادہ کرنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے ملائیشیا ایئرلائنز نے "بونس سائیڈ ٹرپ" پروگرام متعارف کر رکھا ہے، جس کے تحت بین الاقوامی مسافروں کو منتخب مقامی شہروں کے لیے مفت اندرونِ ملک پروازوں کی سہولت دی جاتی ہے۔
اس پروگرام کا مقصد یہ ہے کہ غیر ملکی مسافر صرف کوالالمپور سے گزرنے کے بجائے ملائیشیا کے مختلف سیاحتی مقامات کو بھی دیکھ سکیں، جس سے ملکی سیاحت اور مقامی معیشت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید اور مؤثر ہوائی اڈے کسی بھی ملک کی ٹرانزٹ صلاحیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے ملائیشیا ایئرلائنز اور متعلقہ ادارے ایئرپورٹ انفراسٹرکچر، مسافروں کی سہولت اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔
حالیہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کوالالمپور آہستہ آہستہ جنوب مشرقی ایشیا کے اہم فضائی مراکز میں اپنی جگہ مضبوط کر رہا ہے۔ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں کوالالمپور سنگاپور اور بینکاک جیسے روایتی ٹرانزٹ مراکز کے لیے ایک مضبوط متبادل بن سکتا ہے۔

COMMENTS