کوالالمپور: ملائیشیا کے امیگریشن حکام نے ملک بھر میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 7,043 افراد کو گرف...
کوالالمپور: ملائیشیا کے امیگریشن حکام نے ملک بھر میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں کرتے ہوئے 7,043 افراد کو گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاریاں یکم جنوری سے 19 فروری 2026 کے درمیان کی گئی 1,855 انٹیلی جنس اور نفاذی کارروائیوں کے دوران عمل میں آئیں۔
ملائیشیا کے امیگریشن ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکر جنرل (آپریشنز) نے بتایا کہ اس مدت کے دوران مجموعی طور پر 30,177 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں سے 7,043 افراد مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے۔
حکام کے مطابق گرفتار ہونے والوں کی بڑی تعداد انڈونیشیا اور میانمار سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن پر مشتمل تھی۔ کارروائیوں کا بنیادی ہدف وہ افراد تھے جو مقررہ مدت سے زیادہ قیام کر رہے تھے یا جن کے پاس درست سفری دستاویزات اور ویزا موجود نہیں تھے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 4,804 مقدمات امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی شق 6(1)(سی) کے تحت درج کیے گئے، جو ایسے افراد سے متعلق ہیں جو بغیر کسی قانونی سفری دستاویز یا درست اجازت نامے کے ملائیشیا میں موجود تھے۔
اس کے علاوہ 1,250 مقدمات شق 15(1)(سی) کے تحت سامنے آئے، جن میں افراد نے اپنے ویزا یا اجازت شدہ قیام کی مدت سے زیادہ وقت ملک میں گزارا۔ مزید 806 مقدمات امیگریشن ریگولیشنز 1963 کی ریگولیشنز 39(بی) کے تحت درج ہوئے، جو ویزا یا پاس کی شرائط کی خلاف ورزی سے متعلق تھے۔ دیگر مختلف نوعیت کی خلاف ورزیوں کے 183 کیسز بھی ریکارڈ کیے گئے۔
ملائیشیا طویل عرصے سے جنوب مشرقی ایشیا کے مختلف ممالک سے آنے والے مزدوروں کے لیے ایک اہم روزگار کی منڈی سمجھا جاتا ہے۔ تعمیرات، شجرکاری، زرعی شعبے اور گھریلو ملازمتوں جیسے شعبوں میں مقامی افراد کی محدود دلچسپی کے باعث غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار بڑھا ہے۔ یہی صورتحال بعض افراد کو قانونی دستاویزات کے بغیر بھی روزگار کی تلاش میں ملائیشیا آنے پر آمادہ کرتی ہے۔
امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی امیگریشن، اوور اسٹے اور ویزا شرائط کی خلاف ورزی کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی جائیں گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ امیگریشن قوانین پر مؤثر عملدرآمد ملکی سلامتی، لیبر مارکیٹ کے نظم و ضبط اور قانونی امیگریشن نظام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
ڈاتوک لقمان افندی راملی نے کہا کہ آئندہ بھی ایسے غیر ملکیوں کے خلاف ہدفی اور مؤثر آپریشنز جاری رکھے جائیں گے جو ملکی امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ان کے مطابق نفاذی ادارے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے نگرانی اور مشترکہ کارروائیوں کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔
ملائیشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں، ویزا کے غلط استعمال اور غیر دستاویزی کارکنوں کے خلاف متعدد خصوصی آپریشنز بھی شروع کیے گئے ہیں، جن کا مقصد امیگریشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانا ہے۔

COMMENTS