پتراجایا: ملائیشیا اور بنگلہ دیش نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تارکینِ وطن مزدوروں کے استحصال اور بدسلوکی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے...
پتراجایا: ملائیشیا اور بنگلہ دیش نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تارکینِ وطن مزدوروں کے استحصال اور بدسلوکی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مزدوروں کی بھرتی کے نظام کو زیادہ شفاف، منصفانہ اور مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے کارکنوں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
پتراجایا میں بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انور ابراہیم نے کہا کہ غیر ملکی کارکن ملائیشیا کی اقتصادی ترقی اور مختلف شعبوں کی بقا کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم اس شعبے میں کئی اسکینڈلز اور انسانی ہمدردی سے متعلق مسائل بھی سامنے آئے ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو مشترکہ قیادت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھرتی کے عمل میں موجود بے ضابطگیوں اور استحصالی طریقہ کار کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق ایسا نظام تشکیل دینا ضروری ہے جو دونوں ممالک کی ضروریات پوری کرے اور ساتھ ہی کارکنوں اور ان کے اہل خانہ کے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنائے۔
انور ابراہیم نے کہا کہ نجی ملاقاتوں اور دوطرفہ مذاکرات کے دوران بھی اس بات پر اتفاق ہوا کہ مزدوروں کے استحصال کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شفافیت، احتساب اور مزدوروں کے حقوق کا تحفظ دونوں حکومتوں کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
اس موقع پر بنگلہ دیش کے وزیراعظم طارق رحمان نے ملائیشیا سے درخواست کی کہ وہ مزید بنگلہ دیشی کارکنوں کی بھرتی پر غور کرے اور اپنی لیبر مارکیٹ کو دوبارہ کھولنے کے امکانات کا جائزہ لے۔ انہوں نے غیر دستاویزی بنگلہ دیشی کارکنوں کے لیے وائٹ لسٹنگ کے طریقہ کار اور زیرِ حراست بنگلہ دیشی شہریوں کی وطن واپسی کے معاملات بھی اٹھائے۔
طارق رحمان نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ مزدوروں کی بھرتی کا عمل شفاف، منصفانہ اور کم لاگت ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق بھرتی کے نظام میں غیر ضروری درمیانی افراد اور ایجنٹس کے کردار کو کم کیا جانا چاہیے تاکہ کارکنوں پر مالی بوجھ کم ہو اور بدعنوانی کے امکانات ختم کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش اور ملائیشیا مشترکہ مفادات کے مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں اور انہیں یقین ہے کہ آج کے مذاکرات دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہوں گے۔
اس سے قبل وزیراعظم انور ابراہیم اور وزیراعظم طارق رحمان کے درمیان دوطرفہ مذاکرات ہوئے جن میں تجارت، سرمایہ کاری، انسانی وسائل کے انتظام، سیمی کنڈکٹر صنعت، توانائی، زراعت اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ملاقات کے بعد ثقافتی تعاون سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اور انسدادِ دہشت گردی کی تحقیق، سرمایہ کاری کے فروغ اور سہولت کاری سے متعلق دو یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب بھی منعقد ہوئی۔
طارق رحمان گزشتہ رات دو روزہ سرکاری دورے پر ملائیشیا پہنچے تھے۔ فروری میں وزارتِ عظمیٰ سنبھالنے کے بعد یہ ان کا پہلا سرکاری دوطرفہ غیر ملکی دورہ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملائیشیا اور بنگلہ دیش کے درمیان مجموعی تجارتی حجم 12.18 ارب رنگٹ تک پہنچ گیا تھا۔ اس میں ملائیشیا کی برآمدات 10.08 ارب رنگٹ رہیں جن میں زیادہ تر پیٹرولیم مصنوعات شامل تھیں، جبکہ بنگلہ دیش سے درآمدات کا حجم 2.1 ارب رنگٹ تھا جس میں بنیادی طور پر ٹیکسٹائل، ملبوسات اور جوتے شامل تھے۔
گزشتہ سال بنگلہ دیش ملائیشیا کا دنیا بھر میں 28 واں بڑا تجارتی شراکت دار رہا، جبکہ جنوبی ایشیا میں بھارت کے بعد دوسرا بڑا تجارتی شراکت دار، برآمدی منڈی اور درآمدی ذریعہ بھی تھا۔

COMMENTS