کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ انتھونی لوک نے واضح کیا ہے کہ گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہٹائے جا سکنے والے سن شیڈز، پردوں اور ...
کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ انتھونی لوک نے واضح کیا ہے کہ گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ہٹائے جا سکنے والے سن شیڈز، پردوں اور ونڈو بلائنڈز کے خلاف فوری طور پر سخت کارروائی حکومت یا روڈ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ (جے پی جے) کی ترجیح نہیں ہے، بشرطیکہ یہ اشیاء ڈرائیور کی سڑک دیکھنے کی صلاحیت میں رکاوٹ پیدا نہ کریں۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب جے پی جے کی جانب سے جاری ایک ہدایت نامے نے عوام میں الجھن اور بحث کو جنم دیا۔ ہدایت نامے میں کہا گیا تھا کہ گاڑیوں کی کھڑکیوں پر لگائے جانے والے بعض اضافی پردے، سن شیڈز یا دیگر کورنگز ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی شمار ہو سکتے ہیں۔
جے پی جے کے مطابق ایسے لوازمات بعض حالات میں ڈرائیور کی نظر محدود کر سکتے ہیں، جس سے اردگرد کی ٹریفک، پیدل چلنے والوں اور سڑک کی صورتحال کا درست اندازہ لگانے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ ادارے نے یہ بھی یاد دلایا کہ گاڑیوں کی کھڑکیوں کو مقررہ حد تک شفاف ہونا چاہیے جبکہ ونڈو ٹنٹنگ بھی سرکاری قواعد کے مطابق ہونی چاہیے۔
اس اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ سادہ اور آسانی سے ہٹائے جانے والے سن شیڈز پر اعتراض کیا جا رہا ہے، جبکہ بعض گاڑیوں میں گہرے رنگ کی ٹنٹنگ اب بھی سڑکوں پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اس موضوع پر مختلف آراء سامنے آئیں اور کئی افراد نے قوانین کے عملی نفاذ کے بارے میں وضاحت طلب کی۔
وزیرِ ٹرانسپورٹ انتھونی لوک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ موجودہ قوانین کے تحت کارروائی کی گنجائش موجود ہے، تاہم جے پی جے اس وقت زیادہ سنگین اور عوامی سلامتی سے متعلق جرائم پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر کئی طرح کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں، لیکن ادارے کی اولین ترجیح وہ معاملات ہیں جو براہِ راست عوام کی جان و مال کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔ ان کے مطابق غیر قانونی ریسنگ، شراب نوشی کے بعد ڈرائیونگ، خطرناک ڈرائیونگ اور سٹنٹ رائیڈنگ جیسے جرائم کہیں زیادہ اہم نوعیت کے ہیں۔
انتھونی لوک نے مزید کہا کہ ملائیشیا جیسے گرم موسم والے ملک میں گاڑیوں کے اندر دھوپ اور گرمی سے بچنے کے لیے سن شیڈز کا استعمال ایک عام اور قابلِ فہم عمل ہے۔ اسی وجہ سے ایسے معاملات کو فی الحال ترجیحی بنیادوں پر نافذ نہیں کیا جا رہا۔
ملائیشیا کے روڈ ٹرانسپورٹ قوانین کے مطابق گاڑیوں کی کھڑکیوں پر لگائے جانے والے ہٹائے جا سکنے والے سن شیڈز، پردے یا دیگر کورنگز اگر مقررہ تکنیکی معیار پر پورا نہ اتریں تو انہیں قانون کی خلاف ورزی تصور کیا جا سکتا ہے۔ ایسے معاملات میں متعلقہ شخص کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
قانونی طور پر خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں گاڑی کے مالک یا ڈرائیور پر 300 رنگٹ تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ توجہ ان خلاف ورزیوں پر ہے جو سڑکوں پر حادثات اور عوامی خطرات کا سبب بن سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس وضاحت سے عوام میں پیدا ہونے والی الجھن کافی حد تک دور ہو گئی ہے۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ قوانین اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن ان کے نفاذ میں ترجیحات کا تعین عوامی سلامتی کے خطرات کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا ہے۔
یہ معاملہ اس وسیع تر بحث کا بھی حصہ ہے کہ ٹریفک قوانین کا مقصد صرف جرمانے عائد کرنا نہیں بلکہ سڑکوں پر محفوظ ماحول کو یقینی بنانا ہے۔ اسی لیے حکام ان خلاف ورزیوں پر زیادہ توجہ دیتے ہیں جو حادثات، زخمی ہونے یا جان کے نقصان کے خطرات کو بڑھا سکتی ہیں۔

COMMENTS