کوالالمپور: ملائیشیا کی حکومت سرکاری اسپتالوں اور صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انڈونیشیا سے مزید طبی عملہ، خصوص...
کوالالمپور: ملائیشیا کی حکومت سرکاری اسپتالوں اور صحت کے شعبے میں افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انڈونیشیا سے مزید طبی عملہ، خصوصاً نرسوں کی بھرتی کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔ یہ معاملہ حال ہی میں جکارتہ میں ہونے والے دوطرفہ مذاکرات کے دوران زیرِ بحث آیا، جہاں دونوں ممالک کے حکام نے صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا۔
ملائیشیا کے وزیر خارجہ داتک سری محمد حسن نے انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو کے ساتھ مشترکہ کمیٹی برائے دوطرفہ تعاون (جے سی بی سی) کے اجلاس کے بعد اس تجویز کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا نے ملائیشیا کے صحت کے شعبے میں مزید کارکنوں کی تعیناتی کی خواہش ظاہر کی ہے، جس پر حکومت غور کر رہی ہے۔
محمد حسن نے واضح کیا کہ صحت کے شعبے میں بھرتیوں اور افرادی قوت سے متعلق پالیسیوں کا اختیار بنیادی طور پر وزارتِ صحت کے پاس ہے، تاہم انہوں نے اس تجویز کو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند قرار دیا۔ ان کے مطابق اگر مناسب طریقہ کار کے تحت عمل کیا جائے تو انڈونیشی طبی عملہ ملائیشیا کے طبی نظام کی استعداد بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
ملائیشیا کا صحت کا شعبہ گزشتہ چند برسوں سے افرادی قوت کی کمی، بڑھتے ہوئے مریضوں کے دباؤ اور طبی عملے کے کام کے بوجھ جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت مختلف متبادل راستوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ اسپتالوں اور صحت کی سہولیات میں عملے کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔
تاہم اس تجویز پر عوامی سطح پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ بعض ملائیشی شہریوں اور سوشل میڈیا صارفین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بیرونِ ملک سے طبی عملہ لانے سے مقامی نرسوں اور طبی کارکنوں کے روزگار کے مواقع متاثر ہو سکتے ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مقامی ڈاکٹروں اور نرسوں کی جانب سے کئی برسوں سے بہتر تنخواہوں، مراعات اور کام کے بہتر حالات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو پہلے مقامی طبی عملے کے مسائل حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے تاکہ شعبۂ صحت میں موجود افرادی قوت کو برقرار رکھا جا سکے۔
سوشل میڈیا پر بعض تبصرہ نگاروں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی نسبتاً کم لاگت کا حل تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ بعض صورتوں میں بیرونِ ملک سے آنے والے کارکن کم اجرت پر خدمات انجام دینے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ ان ناقدین کے مطابق اس حکمتِ عملی سے وقتی طور پر اخراجات کم ہو سکتے ہیں، لیکن مقامی افرادی قوت کے مسائل برقرار رہ سکتے ہیں۔
دوسری جانب بعض ماہرین کا خیال ہے کہ اگر صحت کے شعبے میں عملے کی کمی فوری طور پر پوری نہ کی گئی تو اسپتالوں کی کارکردگی اور مریضوں کو فراہم کی جانے والی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق بیرونی طبی عملے کی محدود اور منظم بھرتی ایک عارضی حل کے طور پر مددگار ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ مقامی کارکنوں کے مفادات کا بھی تحفظ کیا جائے۔
کچھ حلقوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ صحت کے شعبے کے بجٹ میں اضافہ کیا جائے تاکہ مقامی ڈاکٹروں اور نرسوں کو بہتر تنخواہیں اور مراعات فراہم کی جا سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے صرف افرادی قوت میں اضافہ کافی نہیں بلکہ بنیادی ڈھانچے اور مالی وسائل میں بھی بہتری ضروری ہے۔
فی الحال حکومت کی جانب سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے اور معاملہ متعلقہ وزارتوں کی سطح پر زیرِ غور ہے۔ امکان ہے کہ مستقبل میں مزید مذاکرات اور پالیسی جائزے کے بعد اس بارے میں واضح حکمتِ عملی سامنے آئے گی۔

COMMENTS