نیگیری سمبیلان: ملائیشیا میں ایک ایسے جوڑے کی کہانی سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا میں توجہ حاصل کر رہی ہے جن کے درمیان عمر کا 37 سال کا فرق ...
نیگیری سمبیلان: ملائیشیا میں ایک ایسے جوڑے کی کہانی سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا میں توجہ حاصل کر رہی ہے جن کے درمیان عمر کا 37 سال کا فرق ہے، لیکن اس کے باوجود وہ گزشتہ چھ برس سے خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں۔
27 سالہ محمد صبری رضامان اور 64 سالہ نورلیذا محمد صالح نے سال 2020 میں شادی کی تھی۔ اس وقت صبری کی عمر صرف 21 سال تھی جبکہ نورلیذا ان سے 37 سال بڑی تھیں۔ جوڑے کا کہنا ہے کہ عمر کے فرق کے باوجود باہمی اعتماد، احترام اور سمجھ بوجھ نے ان کے رشتے کو مضبوط بنایا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں کی پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب صبری 19 سال کے تھے اور ایک منی مارکیٹ میں سیکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کرتے تھے۔ نورلیذا بھی اسی جگہ ملازمت کرتی تھیں۔ وقت کے ساتھ دونوں کے درمیان دوستی ہوئی جو بعد میں محبت میں تبدیل ہوگئی۔
صبری نے بتایا کہ دو سال کی دوستی کے بعد انہوں نے نورلیذا سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔ اگرچہ ابتدائی طور پر خاندان کے بعض افراد نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا، لیکن انہوں نے اپنے فیصلے پر قائم رہنے کا انتخاب کیا۔
ان کے مطابق، "میں اس وقت صرف 21 سال کا تھا لیکن شوہر بننے اور ذمہ داریاں نبھانے کے لیے تیار تھا۔"
شادی کے وقت نورلیذا پہلے ہی چھ بچوں کی ماں اور آٹھ پوتے پوتیوں کی دادی تھیں۔ صبری کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی اہلیہ کے خاندان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے اور ان کے سوتیلے بچوں نے بھی انہیں قبول کیا، حالانکہ بعض بچوں کی عمر خود صبری سے زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ کے پوتے پوتیوں کے ساتھ بھی قریبی تعلق رکھتے ہیں اور کم عمری میں دادا بننے کے تجربے کو خوشی سے قبول کیا ہے۔
صبری کا کہنا ہے کہ ان کے اور خاندان کے درمیان تعلقات خوشگوار ہیں اور اب تک کسی قسم کی ناراضی یا اختلافات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انہوں نے کبھی اپنی اہلیہ کے مالی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ وہ دن رات محنت کرتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک شوہر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر اور شریک حیات کی کفالت کرے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کا آخری وقت تک ساتھ نبھانے کا عزم رکھتے ہیں۔
دوسری جانب نورلیذا نے بتایا کہ 2016 میں طلاق کے بعد انہوں نے دوبارہ شادی کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ ان کے مطابق جب انہوں نے صبری کو پہلی مرتبہ جانا تو انہیں ایک بیٹے کی طرح سمجھتی تھیں اور صرف ان کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔
نورلیذا نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کا رشتہ بدل گیا اور دونوں نے زندگی ایک ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق جب صبری نے شادی کی پیشکش کی تو انہوں نے تمام معاملات سنبھالنے کی ذمہ داری انہی پر چھوڑ دی، جسے انہوں نے بخوبی پورا کیا۔
انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں نے اس فیصلے پر تنقید کی اور صبری کو غیر معمولی قرار دیا، لیکن انہوں نے اپنے فیصلے پر اعتماد برقرار رکھا۔
نورلیذا کے مطابق ان کے شوہر عمر میں چھوٹے ہونے کے باوجود سنجیدہ، ذمہ دار، محبت کرنے والے اور سمجھ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے درمیان اعتماد کی سطح اتنی مضبوط ہے کہ انہیں اپنے شوہر کے موبائل فون یا نجی معاملات کی نگرانی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
جوڑے نے بچوں کے حوالے سے بھی گفتگو کی تھی، تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی موجودہ زندگی کو قبول کرتے ہوئے ایک دوسرے کی رفاقت اور خوشی کو ترجیح دی ہے۔
معاشرتی طور پر بڑی عمر کے فرق والی شادیاں اکثر عوامی بحث کا موضوع بنتی ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ کامیاب ازدواجی زندگی کا انحصار صرف عمر پر نہیں بلکہ باہمی احترام، اعتماد، ذمہ داری اور ایک دوسرے کو سمجھنے پر بھی ہوتا ہے۔
یہ جوڑا گزشتہ چھ برس سے ایک ساتھ زندگی گزار رہا ہے اور ان کی کہانی اس بات کی مثال کے طور پر دیکھی جا رہی ہے کہ مختلف حالات اور عمر کے فرق کے باوجود بعض رشتے مضبوط بنیادوں پر قائم رہ سکتے ہیں۔

COMMENTS