کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال 31 مئی تک ملک بھر میں امیگریشن قوانین کی مختلف خلاف ورزیوں پر مجموعی ...
کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے انکشاف کیا ہے کہ رواں سال 31 مئی تک ملک بھر میں امیگریشن قوانین کی مختلف خلاف ورزیوں پر مجموعی طور پر 30,801 غیر ملکیوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان میں سے 2,324 افراد ایسے پائے گئے جنہوں نے اپنے داخلے کے مقصد کے برعکس سرگرمیوں میں حصہ لیا اور اپنے ویزا یا پاس کی شرائط کا غلط استعمال کیا۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک ذکریا شعبان کے مطابق حکومت نے ان غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی مزید سخت کر دی ہے جو مقررہ شرائط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کام کرتے ہیں یا مناسب اجازت کے بغیر کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ محکمہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پُرعزم ہے کہ امیگریشن سہولیات صرف ان مقاصد کے لیے استعمال ہوں جن کے تحت وہ جاری کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق اس عمل کا مقصد عوامی نظم و ضبط برقرار رکھنا، امیگریشن نظام کی ساکھ کا تحفظ کرنا اور معاشی سرگرمیوں میں منصفانہ ماحول کو فروغ دینا ہے۔
ذکریا شعبان نے بتایا کہ امیگریشن قوانین کے نفاذ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان میں انفورسمنٹ انسپکٹریٹ کا قیام، زیادہ خطرے والے مقامات پر خصوصی کارروائیاں، قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے آجروں کے خلاف سخت ایکشن اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مشترکہ آپریشنز شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث غیر ملکیوں اور ان کی خدمات حاصل کرنے والے آجروں کے خلاف کارروائی کو محکمہ کی سالانہ کارکردگی کے اشاریوں کا حصہ بھی بنایا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد قوانین کی بہتر پاسداری کو یقینی بنانا اور خلاف ورزیوں کی شرح میں کمی لانا ہے۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق بعض غیر ملکی افراد ایسے پاس یا ویزا کے ذریعے ملک میں داخل ہوتے ہیں جو مخصوص مقاصد کے لیے جاری کیے جاتے ہیں، لیکن بعد میں وہ غیر مجاز ملازمت، کاروبار یا دیگر سرگرمیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ ایسی سرگرمیاں نہ صرف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی شمار ہوتی ہیں بلکہ مقامی کاروباری اور معاشی نظام پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
حالیہ مہینوں میں ملائیشیا میں غیر قانونی کاروبار، ویزا کے غلط استعمال اور غیر مجاز ملازمتوں کے خلاف متعدد خصوصی آپریشنز کیے گئے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران ہزاروں افراد کی جانچ پڑتال کی گئی جبکہ سیکڑوں غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اور ان کی سرپرستی کرنے والے عناصر دونوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
ذکریا شعبان نے مزید کہا کہ محکمہ امیگریشن آئندہ بھی اپنی کارروائیوں میں تیزی لائے گا اور وفاقی وزارتوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی حکام کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائے گا تاکہ امیگریشن سے متعلق جرائم کا مؤثر تدارک کیا جا سکے۔
حکومت کی حالیہ پالیسیوں اور ہدایات کے تناظر میں یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویزا اور پاس کے غلط استعمال کے خلاف نگرانی اور نفاذی اقدامات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قانون کی پاسداری اور شفاف نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ایسی کارروائیاں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔

COMMENTS