کوالالمپور: ملائیشیا میں دوریان کے سیزن کے دوران اس سال قیمتوں میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں بعض مقامات پر دوریان صرف 2 رن...
کوالالمپور: ملائیشیا میں دوریان کے سیزن کے دوران اس سال قیمتوں میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں بعض مقامات پر دوریان صرف 2 رنگٹ فی پھل تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ مارکیٹ میں سپلائی بڑھنے کے باعث صارفین کو سستے داموں دوریان خریدنے کا موقع مل رہا ہے جبکہ فروخت کنندگان اضافی اسٹاک جلد فروخت کرنے کے لیے مختلف پروموشنز پیش کر رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تھوک فروش بڑی مقدار میں دوریان فروخت کر رہے ہیں۔ کئی مقامات پر مقامی اقسام کے دوریان صرف چند رنگٹ میں دستیاب ہیں جبکہ مشہور اور مہنگی قسم موسانگ کنگ بھی بعض علاقوں میں 15 رنگٹ فی کلوگرام تک فروخت کی جا رہی ہے۔
کچھ فروخت کنندگان منفرد انداز میں دوریان فی پھل یا فی کلو کے بجائے پلاسٹک بیگ یا بوری کے حساب سے فروخت کر رہے ہیں۔ خریداروں کو مقررہ قیمت کے عوض بیگ میں جتنے ڈوریان سما سکیں بھرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
ایک صارف نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انہوں نے ایک تھوک فروش سے صرف 40 رنگٹ میں ایک بڑا بیگ خریدا جو تازہ دوریان سے بھرا ہوا تھا۔ ایک اور صارف کے مطابق بعض مقامات پر 20 رنگٹ میں ایک مکمل بیگ دستیاب ہے جس میں تقریباً 11 دوریان سما سکتے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی زرعی مارکیٹنگ اتھارٹی نے وضاحت کی ہے کہ موجودہ اضافی سپلائی کی وجہ مقامی طلب میں کمی نہیں بلکہ برآمدی معیار کے دوریان کی پیداوار میں اضافہ ہے۔ ادارے کے نائب ڈائریکٹر جنرل برائے فوڈ سیکیورٹی و آپریشنز، فیصل اسواردی اسماعیل کے مطابق حالیہ برسوں میں کئی نئے باغات پیداوار کے مرحلے میں داخل ہوئے ہیں جس کے باعث مارکیٹ میں دوریان کی مقدار نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متعدد برآمدی اقسام کے دوریان چین اور سنگاپور جیسے بین الاقوامی بازاروں کے سخت معیار پر پورا نہیں اتر سکے، جس کے نتیجے میں یہ پھل مقامی مارکیٹ میں فروخت کے لیے بھیج دیے گئے۔ اس صورتحال نے مقامی مارکیٹ میں سپلائی کو مزید بڑھا دیا۔
دوریان فروشوں کے مطابق ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ پینانگ، پیراک، جوہر اور ملاکا سمیت کئی بڑی پیداوار دینے والی ریاستوں میں اس سال فصل تقریباً ایک ہی وقت میں تیار ہوئی۔ مختلف علاقوں سے بیک وقت بڑی مقدار میں دوریان مارکیٹ میں آنے کے باعث قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دوریان ایک جلد خراب ہونے والا پھل ہے جسے طویل عرصے تک ذخیرہ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ اسی وجہ سے فروخت کنندگان اضافی اسٹاک ضائع ہونے سے بچانے کے لیے قیمتوں میں نمایاں کمی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
مقامی صارفین نے قیمتوں میں کمی کا خیر مقدم کیا ہے کیونکہ عام طور پر موسانگ کنگ اور دیگر اعلیٰ معیار کی اقسام نسبتاً مہنگی سمجھی جاتی ہیں۔ موجودہ صورتحال میں زیادہ لوگ کم قیمت پر دوریان خریدنے اور مختلف اقسام آزمانے کا موقع حاصل کر رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سپلائی کا یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ چند ہفتوں کے دوران قیمتوں میں مزید کمی بھی دیکھنے کو مل سکتی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں پیداوار کا حجم زیادہ ہے۔

COMMENTS