کوالالمپور: ملائیشیا کی ایک انسدادِ انسانی اسمگلنگ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار میں کریک ڈاؤن کے بعد بین الاقوامی آن ...
کوالالمپور: ملائیشیا کی ایک انسدادِ انسانی اسمگلنگ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار میں کریک ڈاؤن کے بعد بین الاقوامی آن لائن فراڈ اور اسکام نیٹ ورکس اپنی سرگرمیوں کا رخ ملائیشیا کی جانب منتقل کر رہے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے ملک کے اندر دو ایسے مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں مبینہ طور پر ان نیٹ ورکس کی سرگرمیاں جاری ہیں۔
ملائیشین ہیومینیٹیرین آرگنائزیشن کے سیکریٹری جنرل داتوک ہشام الدین ہاشم نے 2 جون کو ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ گروہ چین سے منسلک جرائم پیشہ عناصر کے نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ علاقائی سطح پر سخت کارروائیوں کے بعد یہ گروہ ممکنہ طور پر گزشتہ چھ ماہ سے زیادہ عرصے سے ملائیشیا میں خاموشی سے سرگرم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کمبوڈیا، لاؤس اور میانمار میں اسکام کمپاؤنڈز اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آنے کے بعد ان گروہوں نے نئے محفوظ مقامات تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی وجہ سے ملائیشیا کو ممکنہ آپریشنل بیس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
پولیس کو شواہد فراہم کیے جائیں گے
ہشام الدین ہاشم نے مشتبہ مقامات کی تفصیلات عوامی سطح پر ظاہر کرنے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ تمام دستیاب معلومات اور شواہد پولیس کے حوالے کیے جائیں گے تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال تشویش کا باعث ہے کیونکہ ملائیشیا کئی برسوں سے میانمار اور کمبوڈیا میں پھنسے اسکام سینٹرز کے متاثرین کو واپس لانے اور ان کی مدد کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو یہ معاملہ ملک کی ساکھ پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
سابق کارکن نے اسکام سینٹر کا تجربہ بیان کر دیا
پریس کانفرنس میں "ریکس" نامی ایک سابق کارکن نے بھی اپنے تجربات بیان کیے۔ ریکس نے بتایا کہ وہ اپریل 2024 میں ایک پرکشش غیر ملکی ملازمت کی پیشکش قبول کرنے کے بعد ملائیشیا سے روانہ ہوا تھا۔ اسے دبئی میں کسٹمر سروس کی نوکری کا وعدہ کیا گیا تھا جہاں ماہانہ تنخواہ 5,000 سے 8,000 امریکی ڈالر (تقریباً 19,800 سے 31,700 رنگٹ) بتائی گئی تھی۔
تاہم بعد میں اسے لاؤس منتقل کر دیا گیا جہاں اسے معلوم ہوا کہ وہ دراصل ایک منظم اسکام آپریشن کا حصہ بن چکا ہے۔
ریکس کے مطابق اس کمپاؤنڈ میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سیکڑوں افراد کام کر رہے تھے جن میں افریقی، انڈونیشین اور ملائیشین شہری شامل تھے، جبکہ متعدد سپروائزرز کا تعلق چین سے تھا۔
اس نے دعویٰ کیا کہ کارکنوں کو سخت نگرانی والے کمپاؤنڈز میں رکھا جاتا تھا اور روزانہ تقریباً 13 گھنٹے تک کام کرنا پڑتا تھا۔ اگر کوئی مطلوبہ اہداف حاصل نہ کر پاتا تو اسے اضافی اوقات کار کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔
فراڈ کا طریقۂ کار
ریکس کے مطابق یہ نیٹ ورکس بنیادی طور پر آن لائن سرمایہ کاری کے فراڈ اور ٹاسک بیسڈ اسکیموں کے ذریعے بیرونِ ملک افراد کو نشانہ بناتے تھے۔
متاثرین کو ابتدا میں چھوٹے آن لائن ٹاسکس مکمل کرنے اور محدود رقم کی سرمایہ کاری کی ترغیب دی جاتی تھی۔ ابتدائی مرحلے میں انہیں کچھ منافع بھی دیا جاتا تاکہ اعتماد پیدا ہو سکے۔ بعد ازاں جب متاثرین بڑی رقوم سرمایہ کاری کرتے تو ان کا سرمایہ ضائع ہو جاتا تھا۔
ریکس نے بتایا کہ ملازمین کو مخصوص اسکرپٹس دی جاتی تھیں اور انہیں یورپ سمیت مختلف خطوں کے افراد سے آن لائن رابطہ کرنے کی ہدایات دی جاتی تھیں۔ مطلوبہ تعداد میں متاثرین نہ لانے یا کم منافع پیدا کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں کاٹ لی جاتی تھیں یا دیگر سزائیں دی جاتی تھیں۔
اس کے مطابق بعض کارکنوں کو واپسی کی اجازت حاصل کرنے کے لیے 60,000 رنگٹ تک ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا جاتا تھا۔
مالی اور ذاتی نقصان
تقریباً دو سال بعد ریکس اپریل 2026 میں ملائیشیا واپس آیا، لیکن اس کے مطابق اس دوران اس کی مالی حالت بری طرح متاثر ہوئی۔
اس نے بتایا کہ اس کا گھر اور گاڑی ضبط ہو چکے تھے اور وہ تقریباً خالی ہاتھ واپس لوٹا۔ اس کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک پرکشش ملازمت کے نام پر دھوکہ دہی کے ایسے واقعات خطے میں پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔
حکام اور عوام کے لیے انتباہ
ایم ایچ او نے اعلان کیا ہے کہ وہ مزید شواہد جمع کرنے کے بعد باضابطہ طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو رپورٹ جمع کرائے گی۔ تنظیم نے عوام کو خبردار کیا کہ ایسی غیر ملکی ملازمتوں سے محتاط رہیں جن میں غیر معمولی تنخواہوں کا وعدہ کیا جائے لیکن ملازمت کے لیے ضروری دستاویزات، ورک پرمٹ یا ویزا پراسیسنگ کا واضح طریقہ کار موجود نہ ہو۔
ہشام الدین ہاشم کے مطابق جائز آجر عام طور پر باضابطہ آفر لیٹر جاری کرتے ہیں، ورک پرمٹ کا انتظام کرتے ہیں اور ویزا کے تمام مراحل قانونی طریقے سے مکمل کرتے ہیں۔ اگر یہ عناصر موجود نہ ہوں تو اسے خطرے کی علامت سمجھنا چاہیے۔
حالیہ کارروائیاں
ملائیشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران مختلف صوبوں میں متعدد کارروائیاں کی گئی ہیں۔ حکام نے پیراک، سیلانگور، جوہر اور کلنتن میں مبینہ اسکام مراکز پر چھاپے مار کر 100 سے زائد افراد کو گرفتار کیا ہے، جن میں زیادہ تر غیر ملکی شہری شامل تھے۔
حکام کے مطابق یہ گروہ کرپٹو کرنسی سرمایہ کاری فراڈ، رومانس اسکامز اور جعلی ملازمتوں کے ذریعے دھوکہ دہی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ ایک حالیہ کارروائی میں جوہر میں قائم ایک نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کیا گیا جو مبینہ طور پر اسپین کے شہریوں کو جعلی آن لائن ملازمتوں کے ذریعے نشانہ بنا رہا تھا۔

COMMENTS