کوالالمپور: ملائیشیا میں تقریباً سات دہائیوں بعد شہریت کے قوانین میں ایک اہم تبدیلی نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت اب ملائیشین خواتین بھی اپن...
کوالالمپور: ملائیشیا میں تقریباً سات دہائیوں بعد شہریت کے قوانین میں ایک اہم تبدیلی نافذ کر دی گئی ہے، جس کے تحت اب ملائیشین خواتین بھی اپنے بیرون ملک پیدا ہونے والے بچوں کو شہریت منتقل کرنے کا حق رکھتی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس آئینی ترمیم کے ذریعے خواتین کے ساتھ طویل عرصے سے جاری امتیازی سلوک کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین نصرالدین اسماعیل کے مطابق یہ تبدیلی جون 2026 سے باقاعدہ طور پر نافذ العمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اصلاحات ان ملائیشین خواتین کے لیے انصاف کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہیں جو غیر ملکی شہریوں سے شادی کے بعد بیرون ملک بچوں کی پیدائش کی صورت میں قانونی مشکلات کا سامنا کرتی تھیں۔
انہتر سال پرانا مسئلہ حل
ملائیشیا کے سابقہ قوانین کے تحت اگر کوئی ملائیشین خاتون کسی غیر ملکی شہری سے شادی کرتی اور اس کا بچہ بیرون ملک پیدا ہوتا تو بچے کو خودکار طور پر ملائیشین شہریت حاصل نہیں ہوتی تھی۔ اس کے برعکس ملائیشین مردوں کو یہ حق حاصل تھا کہ وہ بیرون ملک پیدا ہونے والے اپنے بچوں کو شہریت منتقل کر سکیں۔
اس فرق کو انسانی حقوق کے کارکنوں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے طویل عرصے سے امتیازی قانون قرار دیا جا رہا تھا۔ کئی خاندانوں کو بچوں کی تعلیم، صحت، رہائش اور سفری دستاویزات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
سیف الدین نے سوشل میڈیا پر ایک جذباتی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کئی بچوں کو یہ سوال کرنا پڑتا تھا: "امی، میں اسکول کیوں نہیں جا سکتا؟"۔ ان کے مطابق ایسے حالات اس مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔
آئینی ترمیم کیسے ممکن ہوئی؟
وزیر داخلہ کے مطابق حکومت نے 2023 میں اس معاملے کو اپنی اصلاحاتی ترجیحات میں شامل کیا تھا۔ بعد ازاں اس حوالے سے آئین میں ترمیم کی تجویز پارلیمنٹ میں پیش کی گئی، جسے منظور کر لیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اس پر عملدرآمد کا مرحلہ مکمل کیا گیا اور اب یہ قانون باضابطہ طور پر نافذ ہو چکا ہے۔
سیف الدین کے مطابق یہ اقدام اس اصول کو مضبوط بناتا ہے کہ خواتین اور مردوں کو قانون کے تحت یکساں حقوق حاصل ہونے چاہئیں، خصوصاً ایسے معاملات میں جو خاندان اور شہریت سے متعلق ہوں۔
متاثرہ خاندانوں کو کیا فائدہ ہوگا؟
نئے قانون کے تحت ملائیشین خواتین اب اپنے بیرون ملک پیدا ہونے والے بچوں کے لیے شہریت کے حصول کی درخواست دے سکیں گی، جس سے ہزاروں خاندانوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
ماہرین کے مطابق شہریت حاصل ہونے سے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں داخلے، صحت کی سہولیات، سفری دستاویزات اور دیگر بنیادی حقوق تک رسائی آسان ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ خاندانوں کو طویل قانونی کارروائیوں اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا بھی کم کرنا پڑے گا۔
حکومت کا مؤقف
سیف الدین نصرالدین اسماعیل نے کہا کہ یہ اصلاحات حکومت کے ادارہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق حکومت نے صرف وعدے نہیں کیے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے عوامی مسائل کے حل کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہریت کے قانون میں یہ تبدیلی خواتین کے حقوق کے تحفظ اور مساوات کے اصول کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ حکومت کا مقصد ایسا قانونی نظام تشکیل دینا ہے جس میں تمام شہریوں کو یکساں مواقع اور حقوق حاصل ہوں۔
پس منظر
ملائیشیا میں شہریت سے متعلق قوانین طویل عرصے سے بحث کا موضوع رہے ہیں۔ خواتین کے حقوق کی تنظیمیں اور سول سوسائٹی کئی برسوں سے اس مطالبے کو اٹھا رہی تھیں کہ خواتین کو بھی مردوں کے برابر شہریت منتقل کرنے کا حق دیا جائے۔
عدالتی مقدمات، عوامی مہمات اور پارلیمانی مباحثوں کے بعد بالآخر آئینی ترمیم کی منظوری ممکن ہوئی۔ اس تبدیلی کو ملائیشیا میں صنفی مساوات کے حوالے سے ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

COMMENTS