کوالا بھرو: ملائیشیا کے محکمہ جنگلات نے ملک بھر کے مستقل محفوظ جنگلات میں غیر قانونی سرگرمیوں کی نگرانی اور روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی ...
کوالا بھرو: ملائیشیا کے محکمہ جنگلات نے ملک بھر کے مستقل محفوظ جنگلات میں غیر قانونی سرگرمیوں کی نگرانی اور روک تھام کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈرونز، سیٹلائٹ تصاویر، جی پی ایس اور جغرافیائی معلوماتی نظام (جی آئی ایس) سمیت مختلف جدید نظاموں سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
محکمہ جنگلات جزیرہ نما ملائیشیا کے ڈائریکٹر جنرل داتوک زہری ابراہیم کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران جنگلاتی نگرانی اور نفاذِ قانون کے نظام کو نمایاں طور پر مضبوط کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مربوط نگرانی کے نظام کے ذریعے جنگلات میں دراندازی، غیر قانونی کٹائی اور دیگر مشتبہ سرگرمیوں کا بروقت پتہ لگانا ممکن ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیٹلائٹ پر مبنی نگرانی کا نظام جنگلاتی رقبے میں ہونے والی تبدیلیوں کو مسلسل ریکارڈ کرتا ہے۔ اس کے ذریعے حکام کسی بھی مشکوک سرگرمی یا جنگلاتی نقصان کے ابتدائی آثار کا بروقت پتہ لگا سکتے ہیں، جس سے فوری کارروائی ممکن بنتی ہے اور بڑے پیمانے پر نقصان سے بچاؤ میں مدد ملتی ہے۔
زہری ابراہیم کے مطابق محکمہ جنگلات نے ملائیشین اسپیس ایجنسی کے تعاون سے فارسٹ مانیٹرنگ ریموٹ سینسنگ سسٹم بھی تیار کیا ہے۔ یہ نظام سیٹلائٹ تصاویر کی مدد سے ملک بھر کے محفوظ جنگلات کی نگرانی کرتا ہے اور مختلف علاقوں سے موصول ہونے والے ڈیٹا کو تجزیے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ رات کے وقت نگرانی کے لیے خصوصی ڈرونز استعمال کیے جا رہے ہیں جو تھرمل امیجنگ ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔ یہ ڈرونز جنگلات میں انسانی نقل و حرکت کا پتہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایسے اوقات میں جب غیر قانونی سرگرمیاں زیادہ ہونے کا امکان ہوتا ہے۔
اسی طرح گھنے جنگلات، دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور ان مقامات کی نگرانی کے لیے بھی ڈرونز استعمال کیے جا رہے ہیں جہاں زمینی ٹیموں کی رسائی محدود ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آن لائن ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے نفاذی کارروائیوں کی حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں نگرانی کی جا رہی ہے۔
محکمہ جنگلات جی پی ایس اور جی آئی ایس ٹیکنالوجی کو بھی استعمال کر رہا ہے تاکہ جنگلاتی جرائم سے متعلق مقامات کا درست ریکارڈ رکھا جا سکے۔ اس سے تحقیقات کو زیادہ مؤثر بنانے اور بعد ازاں قانونی کارروائی میں مدد ملتی ہے۔
مزید برآں، "سمارٹ پرہوتنان" نامی ایک ڈیجیٹل ایپلی کیشن متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے گشت، معائنے اور مشاہدات کا ریکارڈ ڈیجیٹل انداز میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق اس نظام نے رپورٹنگ کے عمل کو تیز اور زیادہ مؤثر بنا دیا ہے۔
داتوک زہری ابراہیم نے کہا کہ ملائیشیا دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جنہیں پائیدار جنگلاتی انتظام کے حوالے سے عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل ہے۔ ان کے مطابق ملک میں 6.94 ملین ہیکٹر جنگلات ایسے ہیں جنہیں "پروگرام فار دی اینڈورسمنٹ آف فاریسٹ سرٹیفیکیشن" کے تحت تصدیق شدہ قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جزیرہ نما ملائیشیا کے مستقل محفوظ جنگلات کا 83 فیصد سے زیادہ حصہ "ملائیشین ٹمبر سرٹیفیکیشن اسکیم" کے تحت تصدیق شدہ ہے، جسے پی ای ایف سی کی بین الاقوامی منظوری حاصل ہے۔ یہ کامیابی ملائیشیا کی پائیدار جنگلاتی پالیسیوں اور ماحولیاتی تحفظ کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے حکومت کے "100 ملین درخت لگاؤ مہم 2021 تا 2025" کا بھی ذکر کیا، جس نے مقررہ ہدف ایک سال قبل ہی حاصل کر لیا تھا۔ 10 دسمبر 2024 کو وزیر اعظم داتوک سری انور ابراہیم نے پارلیمنٹ ہربل پارک میں مِرباؤ درخت لگا کر مہم کے 100 ملین درختوں کا ہدف مکمل کیا تھا۔
محکمہ جنگلات کے مطابق اس مہم کی کامیابی میں وزارت قدرتی وسائل و ماحولیاتی پائیداری، ریاستی جنگلاتی محکموں، نجی شعبے، غیر سرکاری تنظیموں اور مقامی کمیونٹیز نے مشترکہ کردار ادا کیا۔
ایک قومی سروے کے نتائج کے مطابق 99.4 فیصد افراد نے درخت لگانے کی اہمیت سے اتفاق کیا جبکہ 95.4 فیصد شرکاء نے مستقبل میں درخت لگانے کی خواہش ظاہر کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس مہم کا اصل مقصد صرف درختوں کی تعداد بڑھانا نہیں بلکہ عوام میں ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے مستقل شعور اور ذمہ داری پیدا کرنا بھی ہے۔
ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کا استعمال جنگلاتی وسائل کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ماحولیاتی تبدیلی، غیر قانونی کٹائی اور قدرتی وسائل پر دباؤ عالمی سطح پر بڑھ رہا ہے۔

COMMENTS