کوتا بھارو: ملائیشیا میں پہلے سے آباد خاندانوں اور رشتہ داروں کے نیٹ ورک کو غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ ...
کوتا بھارو: ملائیشیا میں پہلے سے آباد خاندانوں اور رشتہ داروں کے نیٹ ورک کو غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق یہی خاندانی روابط بہت سے افراد کو، خصوصاً روہنگیا، بنگلہ دیشی اور میانمار سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کو، ملائیشیا آنے پر آمادہ کرتے ہیں۔
کیلانتان کے پولیس چیف داتوک محمد یوسف مامت نے کہا ہے کہ ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سرحد کے ذریعے غیر قانونی داخلے کی کوششیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے تقریباً روزانہ کا چیلنج بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق بہت سے افراد ملائیشیا کو اپنی آخری منزل اس لیے بناتے ہیں کیونکہ یہاں ان کے خاندان یا قریبی رشتہ دار پہلے سے موجود ہوتے ہیں، جو انہیں ابتدائی رہائش اور زندگی شروع کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ یہ رجحان خاص طور پر روہنگیا برادری میں زیادہ نمایاں ہے۔ ان کے مطابق متعدد روہنگیا افراد مختلف راستوں اور ذرائع سے ملائیشیا پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ملک میں موجود ان کے خاندان کے افراد ان کی مدد کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ خاندانی روابط غیر قانونی نقل مکانی کے فیصلے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پولیس چیف نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں غیر قانونی داخلے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے کیلانتان کے تمام ضلعی پولیس دفاتر کو اپنی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں صرف سرحدی فورسز یا جنرل آپریشن فورس (پی جی اے) پر انحصار نہیں کیا جا سکتا بلکہ مقامی سطح پر بھی مسلسل نگرانی اور کارروائی ضروری ہے۔
محمد یوسف مامت کے مطابق پولیس کے مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ بیشتر غیر قانونی تارکین وطن پہلے تھائی لینڈ پہنچتے ہیں اور بعد ازاں وہاں سے ملائیشیا میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح تھائی لینڈ اکثر ایک ٹرانزٹ ملک کے طور پر استعمال ہوتا ہے جبکہ ملائیشیا ان افراد کی حتمی منزل بن جاتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کیلانتان کے بعض علاقوں میں روہنگیا برادری کی آبادیاں موجود ہیں، جن میں ضلع تاناہ میراہ بھی شامل ہے۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ان علاقوں کی صورتحال فی الحال قابو میں ہے اور متعلقہ ادارے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ مسئلے کو بروقت روکا جا سکے۔
اگرچہ امیگریشن سے متعلق امور بنیادی طور پر ملائیشین امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں، تاہم پولیس بھی غیر ملکی کمیونٹیز کی نگرانی اور امن و امان برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ حکام کے مطابق اس نگرانی کا مقصد جرائم، غیر قانونی سرگرمیوں اور سماجی مسائل کی روک تھام کے ساتھ ساتھ عوامی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن، روہنگیا پناہ گزینوں اور سرحدی سکیورٹی سے متعلق معاملات ایک بار پھر عوامی اور حکومتی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں مختلف ریاستوں میں امیگریشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے متعدد کارروائیاں بھی کی گئی ہیں جن میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو حراست میں لیا گیا۔
دریں اثنا، ملائیشیا کے وزیراعظم داتوک سری انور ابراہیم نے بھی روہنگیا پناہ گزینوں کو ملکی قوانین اور مقامی ضوابط کی پابندی کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملائیشیا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ گزینوں کے مسائل کو سمجھتا ہے، تاہم ملک میں موجود تمام افراد کو قانون کی پابندی کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق کاروباری سرگرمیوں، جائیداد کے استعمال اور دیگر معاملات میں ملکی قوانین کا احترام ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق خاندانی روابط اور پہلے سے موجود کمیونٹیز دنیا کے کئی ممالک میں ہجرت کے رجحانات پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ جب کسی ملک میں ایک مخصوص کمیونٹی قائم ہو جاتی ہے تو نئے آنے والے افراد کے لیے وہاں آباد ہونا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے، جس سے نقل مکانی کے رجحانات میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ ملائیشیا کے معاملے میں بھی حکام اسی پہلو کو غیر قانونی داخلے کی ایک اہم وجہ قرار دے رہے ہیں۔

COMMENTS