کوالالمپور: ملائیشیا میں اسکولوں میں بڑھتے ہوئے بُلیئنگ کے واقعات سے نمٹنے کے لیے نئے انسدادِ بُلیئنگ قوانین نافذ کر دیے گئے ہیں۔ حکومت ک...
کوالالمپور: ملائیشیا میں اسکولوں میں بڑھتے ہوئے بُلیئنگ کے واقعات سے نمٹنے کے لیے نئے انسدادِ بُلیئنگ قوانین نافذ کر دیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد طلبہ کے لیے محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرنا اور بُلیئنگ کے سنگین معاملات سے مؤثر انداز میں نمٹنا ہے۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ملائیشیا ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں اسکولوں میں بُلیئنگ کی شرح نسبتاً زیادہ دیکھی گئی ہے۔ اسی پس منظر میں حکومت نے قانونی اور ادارہ جاتی سطح پر نئے اقدامات متعارف کرائے ہیں تاکہ متاثرہ طلبہ کو بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے اور ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی ہو۔
نئے نظام کے تحت ایک خصوصی ٹریبونل بھی قائم کیا گیا ہے جو اسکولوں میں پیش آنے والے پیچیدہ اور سنگین بُلیئنگ کیسز کی سماعت کرے گا۔ اس ٹریبونل میں 50 سے زائد ماہرین شامل کیے گئے ہیں، جن میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ ٹریبونل ایسے مقدمات پر توجہ دے گا جو اسکول انتظامیہ کی سطح پر حل کرنا مشکل ہوں یا جن میں مزید قانونی اور پیشہ ورانہ مداخلت کی ضرورت ہو۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ متاثرہ طلبہ کو بروقت انصاف اور مناسب معاونت مل سکے۔
ملائیشیا میں والدین، تعلیمی اداروں اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے عمومی طور پر ان اصلاحات کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بُلیئنگ کے بڑھتے ہوئے مسئلے کے پیش نظر مضبوط قانونی اقدامات کی ضرورت تھی۔
تاہم بعض حلقوں نے نئے قانون کی ایک شق پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔ اس شق کے مطابق اگر کوئی نابالغ طالب علم خصوصی ٹریبونل کی جانب سے بُلیئنگ کا مرتکب قرار دیا جاتا ہے تو اس کے والدین یا سرپرست بھی بعض حالات میں قانونی طور پر ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔
قانون کے تحت ایسے والدین کو اضافی قانونی کارروائی، عدالتی عمل یا جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ بچوں کی تربیت میں والدین کا کردار اہم ہے، لیکن ہر واقعے میں والدین کو براہِ راست ذمہ دار قرار دینا پیچیدہ قانونی اور سماجی سوالات کو جنم دے سکتا ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ بُلیئنگ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں، جن میں خاندانی ماحول، سماجی دباؤ، ذہنی صحت کے مسائل، آن لائن سرگرمیاں اور اسکول کا ماحول شامل ہیں۔ اسی لیے قانون کے نفاذ کے دوران توازن اور احتیاط کو یقینی بنانا ضروری ہوگا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ والدین کی ممکنہ ذمہ داری سے متعلق شق کا مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ والدین کو بچوں کی نگرانی اور تربیت میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ حکام کے مطابق ہر کیس کا جائزہ اس کی نوعیت اور حالات کے مطابق لیا جائے گا۔
حالیہ برسوں میں ملائیشیا میں اسکول بُلیئنگ کے متعدد واقعات عوامی توجہ کا مرکز بنے، جن کے بعد تعلیمی اداروں میں طلبہ کے تحفظ، ذہنی صحت اور نظم و ضبط سے متعلق بحث میں اضافہ ہوا۔ اسی تناظر میں نئے قوانین کو ایک اہم اصلاحی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف قانونی کارروائی کافی نہیں ہوگی بلکہ اسکولوں میں آگاہی پروگرام، مشاورت کی سہولیات، اساتذہ کی تربیت اور والدین کی شمولیت بھی بُلیئنگ کے مسئلے کے مؤثر حل کے لیے ضروری عناصر ہیں۔
نئے قانون اور خصوصی ٹریبونل کے قیام سے توقع کی جا رہی ہے کہ متاثرہ طلبہ کے لیے شکایات درج کرانے اور انصاف حاصل کرنے کا عمل زیادہ منظم اور مؤثر ہوگا، جبکہ تعلیمی اداروں کو بھی حساس معاملات سے نمٹنے میں معاونت ملے گی۔

COMMENTS