کوالالمپور: ملائیشیا کے روڈ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ (جے پی جے) نے ان مقامی افراد، مالکان اور کمپنیوں کو خبردار کیا ہے جو اپنی گاڑیاں ایسے غیر...
کوالالمپور: ملائیشیا کے روڈ ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ (جے پی جے) نے ان مقامی افراد، مالکان اور کمپنیوں کو خبردار کیا ہے جو اپنی گاڑیاں ایسے غیر ملکیوں کو استعمال کے لیے دیتے ہیں جن کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں ہوتا۔ محکمہ نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کی خلاف ورزیوں کی صورت میں نہ صرف ڈرائیور بلکہ گاڑی کے رجسٹرڈ مالک کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
یہ انتباہ سیلانگور میں جاری "اوپس پیماندو وارگا اسنگ" کے دوران سامنے آیا، جو رواں سال کے آغاز سے غیر ملکی ڈرائیوروں کی نگرانی اور ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے لیے جاری ہے۔ اس آپریشن کا مقصد غیر قانونی ڈرائیونگ، غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے استعمال اور دیگر ٹریفک خلاف ورزیوں کی روک تھام ہے۔
سیلانگور جے پی جے کے ڈپٹی ڈائریکر داتوک احمد کمرنزمان مہات نے بتایا کہ محکمہ نے متعدد ایسے کیسز کی نشاندہی کی ہے جن میں مقامی افراد نے اپنی گاڑیاں غیر ملکی شہریوں کو کرائے پر دیں یا استعمال کے لیے فراہم کیں، حالانکہ ان کے پاس درست ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال اس وقت سامنے آئی جب ضبط شدہ گاڑیوں کے مالکان اپنی گاڑیاں واپس لینے کے لیے جے پی جے دفاتر پہنچے۔
انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اگر عدالت کی جانب سے عائد کردہ جرمانے ادا نہ کیے جائیں تو ضبط شدہ گاڑیاں واپس حاصل نہیں کی جا سکتیں۔ گاڑی کے مالک اور خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیور دونوں کو قانونی تقاضے پورے کرنے ہوں گے، جس کے بعد ہی گاڑی کی رہائی ممکن ہوگی۔
تازہ ترین تین روزہ آپریشن کے دوران، جو بالاکونگ، پُچونگ، پیٹالنگ جایا اور شاہ عالم کے مختلف علاقوں میں کیا گیا، مجموعی طور پر 304 گاڑیوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ان میں 125 موٹر سائیکلیں، 90 نجی گاڑیاں، 74 تجارتی گاڑیاں اور 15 عوامی سروس کی گاڑیاں شامل تھیں۔
محکمہ کے اعداد و شمار کے مطابق کارروائی کے دوران 239 غیر ملکی ڈرائیوروں کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں 50 افراد میانمار، 46 بنگلہ دیش، 44 انڈونیشیا، 10 بھارت جبکہ 89 دیگر ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ مجموعی طور پر 734 ٹریفک خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔
سب سے زیادہ 268 مقدمات بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے کے تھے۔ اس کے علاوہ 207 کیسز بغیر روڈ ٹیکس اور 178 کیسز بغیر انشورنس گاڑی چلانے کے سامنے آئے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ٹریفک قوانین کی متعدد بنیادی شرائط پوری نہیں کی جا رہی تھیں، جو سڑکوں پر دیگر افراد کے لیے بھی خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔
کارروائی کے دوران 95 گاڑیاں ضبط کی گئیں جن میں 61 موٹر سائیکلیں، 23 تجارتی گاڑیاں، 9 نجی گاڑیاں اور 2 عوامی ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں شامل تھیں۔ JPJ حکام کے مطابق بعض گاڑیوں کی حالت بھی تشویشناک تھی، جن میں گھسے ہوئے ٹائر اور ناقص بریک سسٹم پائے گئے۔ ایسی گاڑیاں حادثات کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہیں اور عوامی تحفظ کے لیے خطرہ سمجھی جاتی ہیں۔
محکمہ نے یاد دلایا کہ روڈ ٹرانسپورٹ ایکٹ 1987 کی دفعہ 109 کے تحت رجسٹرڈ گاڑی کا مالک ڈرائیور کی بعض خلاف ورزیوں کا ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح دفعہ 64 کے تحت اگر کوئی غیر ملکی شہری درست لائسنس کے بغیر گاڑی چلاتا پایا جائے تو متعلقہ گاڑی ضبط کی جا سکتی ہے۔
حکام نے مزید کہا کہ ٹرانسپورٹ کمپنیاں اور آجر بھی اس حوالے سے ذمہ دار ہیں۔ اگر کوئی کمپنی ایسے افراد کو گاڑی چلانے کی اجازت دیتی ہے جو قانونی تقاضے پورے نہیں کرتے تو اس کے پرمٹ معطل یا منسوخ کیے جا سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سڑکوں پر قانونی اور محفوظ ٹرانسپورٹ نظام کو یقینی بنانا ہے۔
ملائیشیا میں حالیہ برسوں کے دوران غیر ملکی کارکنوں اور رہائشیوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ جے پی جے کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے آپریشن مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ تمام ڈرائیور قانون کے مطابق گاڑیاں چلائیں اور سڑکوں پر حفاظت کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔

COMMENTS