پوتراجایا: ملائیشیا کی وزارت داخلہ نے ملک میں مقیم پناہ گزینوں اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے کارڈ ہولڈرز کی ...
پوتراجایا: ملائیشیا کی وزارت داخلہ نے ملک میں مقیم پناہ گزینوں اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے کارڈ ہولڈرز کی رجسٹریشن اور حیثیت کے تعین کے لیے ایک نیا عمل شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا، ہجرت سے متعلق امور کو بہتر انداز میں منظم کرنا اور ملک میں موجود پناہ گزینوں کے بارے میں جامع معلومات حاصل کرنا ہے۔
وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ عمل جزیرہ نما ملائیشیا میں نافذ کیا جا رہا ہے اور اس کے تحت یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے والے افراد سمیت وہ تمام لوگ شامل ہوں گے جو خود کو پناہ گزین قرار دیتے ہیں۔
حکام کے مطابق ملائیشیا کئی دہائیوں سے مختلف ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کی میزبانی کر رہا ہے، تاہم حکومت کے پاس اب تک ان افراد کی مکمل تعداد، شناخت اور پس منظر سے متعلق جامع معلومات دستیاب نہیں تھیں۔
وزارت کا کہنا ہے کہ نئے رجسٹریشن نظام کے ذریعے حکومت بائیومیٹرک معلومات اور شناختی ڈیٹا جمع کرے گی۔ اس عمل سے متعلقہ افراد کی درست شناخت، رہائش کی جگہ اور پس منظر کے بارے میں زیادہ واضح معلومات حاصل کی جا سکیں گی، جس سے پالیسی سازی اور انتظامی فیصلوں میں مدد ملے گی۔
بیان میں کہا گیا کہ حکومت اس معلومات کی بنیاد پر قومی سلامتی، صحت عامہ اور معاشی اثرات کا بہتر جائزہ لے سکے گی۔ اس کے علاوہ پناہ گزینوں اور یو این ایچ سی آر کارڈ ہولڈرز سے متعلق امیگریشن پالیسیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی کو بھی مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یہ رجسٹریشن عمل کسی بھی صورت میں ملائیشین شہریت، مستقل رہائش یا ملک میں مستقل طور پر رہنے کے حق کا ذریعہ نہیں بنے گا۔ حکام کے مطابق اس پروگرام کا بنیادی مقصد صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ حکومت کے پاس ملک میں موجود افراد کے بارے میں درست اور قابل تصدیق معلومات موجود ہوں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ حکومت کا قومی سلامتی کے حوالے سے مؤقف بالکل واضح ہے اور داخلی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اسی لیے ایک ایسا منظم اور ذمہ دارانہ نظام متعارف کرایا جا رہا ہے جو عوامی مفاد اور قومی سلامتی کے اصولوں کے مطابق ہو۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حالیہ مہینوں میں ملائیشیا میں پناہ گزینوں کے انتظام اور ان کی قانونی حیثیت سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور رہی ہیں۔ رواں سال جنوری میں حکومت نے بعض روہنگیا پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کا عمل بھی شروع کیا تھا، جبکہ مئی میں حکام نے واضح کیا تھا کہ رجسٹریشن پروگرام پناہ گزینوں کو مستقل رہائش کا حق نہیں دے گا۔
پس منظر کے طور پر، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق ملائیشیا میں بڑی تعداد میں پناہ گزین اور پناہ کے متلاشی افراد موجود ہیں، جن میں روہنگیا برادری سب سے بڑی آبادی پر مشتمل ہے۔ ان افراد کی اکثریت تنازعات، سیاسی عدم استحکام، جنگوں یا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے باعث اپنے ممالک چھوڑنے پر مجبور ہوئی۔
ماہرین کے مطابق پناہ گزینوں کی رجسٹریشن اور بائیومیٹرک ڈیٹا کا حصول حکومتوں کو بہتر منصوبہ بندی، سیکیورٹی نگرانی اور بنیادی خدمات کی فراہمی میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اسی لیے دنیا کے مختلف ممالک میں اس قسم کے نظام کو ہجرت اور پناہ گزینوں کے انتظام کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔
ملائیشین حکومت کا کہنا ہے کہ نئے نظام کے ذریعے نہ صرف درست معلومات حاصل ہوں گی بلکہ مستقبل میں ہجرت اور پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی سازی بھی زیادہ مؤثر اور حقائق پر مبنی ہو سکے گی۔

COMMENTS