کوالالمپور: ملائیشیا نے روہنگیا پناہ گزینوں اور دیگر پناہ کے متلاشی افراد کے لیے ایک نیا رجسٹریشن نظام نافذ کرنا شروع کر دیا ہے جس کا مقصد ا...
کوالالمپور: ملائیشیا نے روہنگیا پناہ گزینوں اور دیگر پناہ کے متلاشی افراد کے لیے ایک نیا رجسٹریشن نظام نافذ کرنا شروع کر دیا ہے جس کا مقصد انہیں قانونی حیثیت دینا، ان کے حالات زندگی بہتر بنانا اور ملک میں مزدوروں کی کمی کو پورا کرنے میں مدد حاصل کرنا ہے۔
ملائیشیا کی وزارت داخلہ کے تحت "ریفیوجی رجسٹریشن ڈاکیومنٹ" فریم ورک یکم جون سے عملی طور پر نافذ ہو گیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اس پروگرام کا اطلاق ان پناہ گزینوں پر کیا جا رہا ہے جو ملک کے امیگریشن حراستی مراکز میں موجود ہیں۔ اب تک تقریباً 4,000 افراد کی رجسٹریشن کی جا چکی ہے جن میں اکثریت میانمار سے تعلق رکھنے والے روہنگیا مسلمانوں کی ہے۔
روہنگیا برادری کئی برسوں سے میانمار میں شہریت سے محروم ہے اور مختلف ادوار میں تشدد اور امتیازی سلوک کے باعث ہزاروں افراد نے ہمسایہ ممالک میں پناہ حاصل کی۔ ملائیشیا ان ممالک میں شامل ہے جہاں بڑی تعداد میں روہنگیا پناہ گزین موجود ہیں۔
ملائیشیا کی حکومت کے مطابق نئے نظام کے ذریعے رجسٹرڈ افراد کو ایک قانونی شناخت فراہم کی جائے گی جس سے ان کی سکیورٹی، روزگار تک رسائی اور بنیادی سہولیات میں بہتری متوقع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پناہ گزینوں کو ملکی قوانین کے دائرے میں لانا اور ان کے استحصال کے امکانات کم کرنا ہے۔
وزارت داخلہ رواں ماہ کے وسط میں کابینہ کے سامنے ایک جامع منصوبہ پیش کرے گی جس میں ملائیشیا میں مقیم 200,000 سے زائد پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کے انتظام اور رجسٹریشن سے متعلق تفصیلات شامل ہوں گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام صرف رجسٹریشن تک محدود نہیں بلکہ اس کا ایک اہم مقصد ان شعبوں میں افرادی قوت فراہم کرنا بھی ہے جہاں مزدوروں کی مسلسل کمی کا سامنا ہے۔ ان شعبوں میں مینوفیکچرنگ، زراعت، تعمیرات اور خدمات کا شعبہ شامل ہیں۔ منصوبے کے تحت 20 سے 40 سال عمر کے رجسٹرڈ پناہ گزینوں کو قانونی طور پر روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں گے۔
معاشی ماہرین کے بعض تخمینوں کے مطابق اگر پناہ گزینوں کو قانونی طور پر ملازمت کی اجازت دی جائے تو آئندہ پانچ برسوں میں ملائیشیا کی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً 750 ملین امریکی ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکس آمدنی اور لیبر مارکیٹ میں استحکام کے بھی مثبت اثرات متوقع ہیں۔
نئے فریم ورک میں کارکنوں کے تحفظ کے لیے متعدد شرائط شامل کی گئی ہیں۔ اس کے تحت آجر قومی قوانین کی پابندی کے پابند ہوں گے، کم از کم ماہانہ اجرت ادا کریں گے جو تقریباً 430 امریکی ڈالر کے برابر ہے، اور مناسب رہائش کی فراہمی بھی یقینی بنائیں گے۔
تاہم اس پالیسی پر مختلف حلقوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آیا ہے۔ کاروباری تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے غیر قانونی یا غیر رجسٹرڈ غیر ملکی مزدوروں پر انحصار کم ہو سکتا ہے، جبکہ صنعتوں کو افرادی قوت کی کمی سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں اس پروگرام کے حوالے سے مزید شفافیت کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کے عمل، ڈیٹا کے تحفظ اور پناہ گزینوں کے حقوق کے بارے میں واضح ضمانتیں فراہم کی جانی چاہئیں تاکہ کسی قسم کے استحصال یا بدسلوکی کے امکانات کم ہوں۔
غیر سرکاری تنظیم "فورٹیفائی رائٹس" کے ڈائریکٹر جان کوئنلی نے کہا کہ یہ منصوبہ اسی صورت مؤثر ثابت ہو سکتا ہے جب اس میں رازداری، قانونی طریقہ کار اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ساتھ تعاون کو یقینی بنایا جائے۔ ان کے مطابق پناہ گزینوں کو رجسٹریشن کے انتظار کے دوران گرفتار، حراست میں لینے یا ملک بدر کرنے سے بھی تحفظ ملنا چاہیے۔
ملائیشیا کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ پروگرام شہریت یا مستقل رہائش حاصل کرنے کا راستہ نہیں ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کا مقصد صرف پناہ گزینوں کی رجسٹریشن، نگرانی اور محدود قانونی تحفظ فراہم کرنا ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ملائیشیا 1951 کے اقوام متحدہ کے مہاجرین کنونشن کا دستخط کنندہ ملک نہیں ہے۔ اسی وجہ سے ماضی میں ملک نے پناہ گزینوں کے مسئلے کو زیادہ تر سکیورٹی اور عوامی نظم و نسق کے تناظر میں دیکھا ہے۔ تاہم حالیہ پالیسی کو ماہرین ایک ایسی کوشش قرار دے رہے ہیں جس کے ذریعے حکومت معاشی ضروریات اور انسانی مسائل کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

COMMENTS