پوتراجایا: ملائیشیا کی وزارتِ داخلہ (کے ڈی این) نے ملک میں سوشل وزٹ پاس کا غلط استعمال کرتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں میں ملوث غیر ملکیوں کے...
پوتراجایا: ملائیشیا کی وزارتِ داخلہ (کے ڈی این) نے ملک میں سوشل وزٹ پاس کا غلط استعمال کرتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں میں ملوث غیر ملکیوں کے خلاف خصوصی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو سیاحتی یا سماجی دورے کے لیے جاری کیے گئے پاس استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر کاروبار چلا رہے ہیں۔
وزیرِ داخلہ داتک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا کہ یہ کارروائی وزیراعظم داتک سری انور ابراہیم کی ہدایات کے بعد شروع کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نے حالیہ دنوں میں اس مسئلے پر عوامی شکایات اور خدشات کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو سخت اقدامات کی ہدایت دی تھی۔
سیف الدین ناسوشن کے مطابق وزارتِ داخلہ کے ماتحت ادارے، بشمول امیگریشن ڈیپارٹمنٹ اور رائل ملائیشین پولیس، اس خصوصی آپریشن میں فعال کردار ادا کریں گے۔ ان اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے غیر ملکیوں کی نشاندہی کریں جو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت کے پاس ایسے علاقوں اور مقامات کی معلومات موجود ہیں جہاں غیر ملکی افراد بغیر مناسب اجازت کے کاروبار کر رہے ہیں۔ بعض افراد ملک میں قانونی دستاویزات کے بغیر داخل ہوتے ہیں، کچھ اپنے قیام کی مقررہ مدت ختم ہونے کے باوجود ملک میں رہتے ہیں جبکہ بعض افراد اپنے ویزا یا سوشل وزٹ پاس کے مقاصد کے برعکس سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔
وزیراعظم انور ابراہیم نے بھی اسی روز وزارتِ مواصلات کی ماہانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو فوری اور مربوط کارروائی کا حکم دیا۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف امیگریشن قوانین تک محدود نہیں بلکہ اس کے مالی، تجارتی اور انتظامی پہلو بھی ہیں، اس لیے مختلف اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
حکومت کی جانب سے اعلان کردہ مربوط کارروائی میں ان لینڈ ریونیو بورڈ، رائل ملائیشین کسٹمز ڈیپارٹمنٹ، وزارتِ تجارت و لاگتِ زندگی (کے پی ڈی این)، مقامی حکام، ملائیشین کمیونیکیشنز اینڈ ملٹی میڈیا کمیشن (ایم سی ایم سی) اور بینک نیگارا ملائیشیا (بی این ایم) بھی شامل ہوں گے۔ ان اداروں کا کردار ٹیکس، کاروباری لائسنس، مالی لین دین اور آن لائن تجارتی سرگرمیوں کی نگرانی سے متعلق ہوگا۔
وزیرِ داخلہ کے مطابق مقامی تاجروں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات میں سب سے نمایاں مسئلہ غیر منصفانہ مقابلہ ہے۔ مقامی کاروباری افراد کا مؤقف ہے کہ وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں، کاروباری لائسنس حاصل کرتے ہیں اور مختلف قانونی تقاضوں پر عمل کرتے ہیں، جبکہ بعض غیر ملکی افراد ان ذمہ داریوں سے بچتے ہوئے کاروبار کرتے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں وہ نسبتاً کم قیمت پر خدمات یا مصنوعات فراہم کر سکتے ہیں، جس سے مقامی تاجروں کو نقصان پہنچتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بعض غیر ملکی افراد سوشل وزٹ پاس پر ملائیشیا میں داخل ہونے کے بعد اندرونی سجاوٹ، فرنیچر آرڈرز اور دیگر تجارتی خدمات سے متعلق کاروبار شروع کر دیتے ہیں۔ چونکہ ان کے پاس اس نوعیت کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہوتی، اس لیے یہ عمل امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
سیف الدین ناسوشن نے مزید بتایا کہ وزارتِ داخلہ کو اس نوعیت کے معاملات سے نمٹنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے، خاص طور پر ریاست صباح میں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایسٹرن صباح سیکیورٹی کمانڈ کی سربراہی میں گزشتہ ایک سال کے دوران مشرقی صباح کے ساحلی علاقوں میں متعدد مشترکہ آپریشنز کیے گئے۔ ان کارروائیوں کا ہدف ایسے ریزورٹس اور کاروباری مراکز تھے جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ ایسے غیر ملکی افراد چلا رہے ہیں جو کاروباری سرگرمیوں کی اجازت نہ رکھنے والے پاس استعمال کر رہے تھے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس خصوصی آپریشن کا مقصد صرف خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کرنا نہیں بلکہ کاروباری ماحول میں شفافیت اور قانونی تقاضوں کی پاسداری کو یقینی بنانا بھی ہے۔ حکام کے مطابق قوانین پر یکساں عمل درآمد مقامی اور غیر ملکی تمام افراد کے لیے ضروری ہے تاکہ منصفانہ کاروباری ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں اور کاروباری سرگرمیوں سے متعلق قوانین پہلے سے موجود ہیں، تاہم حالیہ عوامی شکایات کے بعد حکومت نے اس مسئلے پر مزید توجہ دینا شروع کی ہے۔ اسی تناظر میں مختلف اداروں کو مشترکہ طور پر کام کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ویزا کے غلط استعمال، غیر قانونی کاروبار اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔

COMMENTS