نیگیری سمبیلان میں محکمہ امیگریشن نے 31 غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی اور دستاویزی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد ان کے آبائی ممالک واپس بھیج...
نیگیری سمبیلان میں محکمہ امیگریشن نے 31 غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی اور دستاویزی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا ہے۔ یہ اقدام ملکی امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور غیر ملکی شہریوں کی موجودگی سے متعلق نگرانی کو مزید مؤثر بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
محکمہ امیگریشن نیگیری سمبیلان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق واپس بھیجے جانے والے افراد میں مجموعی طور پر 31 غیر قانونی تارکین وطن شامل تھے۔ ان میں 27 بالغ مرد اور 4 بالغ خواتین شامل ہیں۔
حکام کے مطابق تمام افراد کو وطن واپسی سے قبل لینگگینگ امیگریشن ڈپو میں رکھا گیا تھا، جہاں ان کے خلاف درکار قانونی کارروائی، شناختی دستاویزات کی جانچ اور دیگر انتظامی مراحل مکمل کیے گئے۔ اس کے بعد انہیں مقررہ ضابطہ کار کے مطابق اپنے اپنے ممالک روانہ کیا گیا۔
محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کا یہ عمل ملک میں امیگریشن قوانین کے نفاذ کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی شہری قانونی شرائط اور ویزا قواعد کے مطابق ہی ملک میں قیام کریں۔
ملائیشیا میں امیگریشن حکام وقتاً فوقتاً ایسے افراد کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں جو بغیر درست سفری دستاویزات کے ملک میں داخل ہوتے ہیں، ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرتے ہیں یا امیگریشن قوانین کی دیگر خلاف ورزیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ ایسے افراد کو گرفتار کرنے کے بعد قانونی تقاضے پورے ہونے پر ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں حکومت نے غیر قانونی امیگریشن کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے نگرانی اور نفاذ کے اقدامات میں اضافہ کیا ہے۔ اس ضمن میں مختلف ریاستوں میں امیگریشن ڈپو قائم ہیں جہاں گرفتار افراد کو قانونی کارروائی مکمل ہونے تک رکھا جاتا ہے۔
محکمہ امیگریشن نیگیری سمبیلان کے مطابق یہ کارروائی ریاست میں جاری وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملکی سلامتی، امیگریشن قوانین کی پاسداری اور غیر ملکی کارکنوں کی قانونی حیثیت کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رہیں گے تاکہ امیگریشن نظام کو مؤثر اور منظم رکھا جا سکے۔
مزید برآں، حکام نے اس بات پر زور دیا کہ تمام غیر ملکی شہریوں اور ان کے آجرین کو ملکی قوانین اور امیگریشن ضوابط کی مکمل پابندی کرنی چاہیے تاکہ قانونی مسائل سے بچا جا سکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ قانونی دستاویزات اور درست اجازت ناموں کے ساتھ رہائش اور ملازمت ملکی قوانین کے مطابق ضروری ہے۔

COMMENTS