کوالالمپور: ملائیشیا میں نرسوں کی بڑھتی ہوئی کمی کے مسئلے پر ایک سماجی کارکن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ بیرون ملک سے نرسیں بھرتی کرنے کے بجا...
کوالالمپور: ملائیشیا میں نرسوں کی بڑھتی ہوئی کمی کے مسئلے پر ایک سماجی کارکن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ بیرون ملک سے نرسیں بھرتی کرنے کے بجائے مقامی نرسوں کو سرکاری صحت کے نظام میں برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
سراواک سے تعلق رکھنے والے حقوق کے کارکن پیٹر جان جابن نے ان اطلاعات پر تنقید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ملائیشیا اپنے صحت کے شعبے میں عملے کی کمی پوری کرنے کے لیے تقریباً 15,000 انڈونیشیائی نرسوں کی بھرتی پر غور کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام وقتی طور پر خالی آسامیوں کو پُر کر سکتا ہے، لیکن اس سے مسئلے کی بنیادی وجوہات حل نہیں ہوں گی۔
پیٹر جان جابن کا کہنا ہے کہ ملائیشیا کو درحقیقت تربیت یافتہ نرسوں کی کمی کا سامنا نہیں بلکہ نرسوں کو نظام میں برقرار رکھنے کا بحران درپیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں مقامی نرسیں بہتر تنخواہوں، بہتر سہولیات اور زیادہ سازگار کام کے ماحول کی وجہ سے سنگاپور، مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک کا رخ کر رہی ہیں۔
ان کے مطابق مسئلہ افرادی قوت کی دستیابی نہیں بلکہ ایسی پالیسیوں کی کمی ہے جو نرسوں کو سرکاری شعبے میں کام جاری رکھنے کی ترغیب دے سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر تنخواہوں، کام کے بوجھ اور ترقی کے مواقع سے متعلق مسائل برقرار رہے تو بیرون ملک سے نرسوں کی بھرتی صرف ایک عارضی حل ثابت ہوگی۔
پیٹر نے مزید کہا کہ ملائیشیا میں صحت کے شعبے کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق خاص طور پر مشرقی ملائیشیا اور سراواک کے دور دراز علاقوں میں صحت کی سہولیات پہلے ہی عملے کی کمی کا سامنا کر رہی ہیں۔ کپت، بارام اور لاواس جیسے اضلاع میں نرسوں اور دیگر طبی عملے کی مستقل دستیابی ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ دیہی علاقوں کے مسائل صرف بھرتی مہمات سے حل نہیں کیے جا سکتے بلکہ ایسی پائیدار پالیسیوں کی ضرورت ہے جو مقامی صحت کے کارکنوں کو انہی علاقوں میں خدمات انجام دینے اور وہاں طویل عرصے تک کام جاری رکھنے کی ترغیب دیں۔
پیٹر جان جابن نے سراواک کے لیے صحت کے شعبے میں زیادہ خودمختاری کا مطالبہ بھی کیا۔ ان کے مطابق اگر وفاقی سطح پر کیے جانے والے اقدامات مطلوبہ نتائج نہیں دے رہے تو ریاستی حکومت کو صحت کے وسائل اور افرادی قوت کی منصوبہ بندی میں زیادہ اختیارات دیے جانے چاہئیں تاکہ مقامی ضروریات کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔
انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ عوامی ہسپتالوں اور دور دراز طبی مراکز میں خدمات انجام دینے والی نرسوں کے لیے خصوصی مراعات، اضافی الاؤنسز اور بہتر ترقیاتی مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کے مطابق حکومت کو نرسوں کے لیے موجودہ برقرار رکھنے کی پالیسیوں کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے اور بیرون ملک سے بھرتیوں کے منصوبے پر حتمی فیصلہ کرنے سے قبل ایک جامع مطالعہ مکمل کرنا چاہیے۔
دوسری جانب ملائیشیا کی وزارتِ صحت اس بات کو تسلیم کر چکی ہے کہ سرکاری صحت کے نظام کو افرادی قوت کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ وزارت مختلف اقدامات کے ذریعے بھرتیوں اور عملے کو برقرار رکھنے کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق وزارتِ صحت کو اس وقت تقریباً 15,000 نرسوں کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ نرسنگ کے شعبے میں خالی آسامیوں کی شرح تقریباً 18 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی بڑی وجوہات میں بیرون ملک ہجرت، بڑھتا ہوا کام کا دباؤ اور آبادی میں بزرگ افراد کی تعداد میں اضافہ شامل ہیں، جس کے باعث صحت کی خدمات کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔
اسی تناظر میں انڈونیشیا کے سفیر داتک راڈن محمد ایمان ہسکاریا کُسومو نے حال ہی میں کہا تھا کہ انڈونیشیا ہر سال تقریباً 65,000 نرسیں تیار کرتا ہے اور وہ ملائیشیا کی ضروریات پوری کرنے کے لیے 15,000 تک نرسیں فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ جدید صحت کے نظام میں صرف نئی بھرتیاں کافی نہیں ہوتیں بلکہ تجربہ کار عملے کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہوتا ہے۔ اگر مقامی نرسیں بہتر مواقع کی تلاش میں ملک چھوڑتی رہیں تو نئے افراد کی بھرتی کے باوجود عملے کی کمی کا مسئلہ برقرار رہ سکتا ہے۔

COMMENTS