تازہ ترین خبریں

    ملائیشیا میں پناہ گزینوں کو روزگار دینے کی تجویز کو قانونی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا

      پیٹالنگ جایا: ملائیشیا میں پناہ گزینوں کو قانونی طور پر روزگار فراہم کرنے کی تجویز ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ ماہرین معاشیات اور...

     پیٹالنگ جایا: ملائیشیا میں پناہ گزینوں کو قانونی طور پر روزگار فراہم کرنے کی تجویز ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ ماہرین معاشیات اور مزدوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے حلقوں کا کہنا ہے کہ اس تجویز سے بعض شعبوں میں افرادی قوت کی کمی دور کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کے نفاذ سے قبل متعدد قانونی، انتظامی اور عملی مسائل کو حل کرنا ضروری ہوگا۔

    یہ بحث اس وقت سامنے آئی جب وزیر برائے کاروباری ترقی و کوآپریٹو امور اسٹیون سم نے تجویز دی کہ ایسے پناہ گزین جو ایک طویل عرصے سے ملائیشیا میں مقیم ہیں، انہیں مخصوص شرائط کے تحت ملازمت کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق ملک کے کئی شعبے اب بھی مزدوروں کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، خصوصاً وہ شعبے جنہیں عموماً "3 ڈی جابز" کہا جاتا ہے، یعنی ایسے کام جو مشکل، خطرناک اور کم پسندیدہ سمجھے جاتے ہیں۔

    سن وے یونیورسٹی کے ماہر معاشیات یاہ کم لینگ نے کہا کہ اس تجویز کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ موجودہ قانونی ڈھانچہ ہے۔ ملائیشیا نے اقوام متحدہ کے 1951 کے ریفیوجی کنونشن پر دستخط نہیں کیے، جس کی وجہ سے پناہ گزینوں کو ملکی قانون کے تحت باضابطہ قانونی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ اس صورتحال میں بیشتر پناہ گزینوں کو قانونی اعتبار سے غیر دستاویزی تارکین وطن تصور کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کی جانب سے جاری کردہ کارڈ پناہ گزینوں کو محدود تحفظ تو فراہم کرتے ہیں، لیکن انہیں کام کرنے کا قانونی حق نہیں دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ پناہ گزینوں اور انہیں ملازمت دینے والے اداروں دونوں کو قانونی پیچیدگیوں اور ممکنہ کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یاہ کم لینگ کے مطابق پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کا طویل عمل، صحت اور تعلیم کی محدود سہولیات، اور حکومتی اداروں کی محدود انتظامی صلاحیت بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اس سمت میں آگے بڑھنا چاہتی ہے تو اسے واضح پالیسی، نگرانی کے مؤثر نظام اور مضبوط انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی۔

    انہوں نے 2017 کے ایک سرکاری پائلٹ منصوبے کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت کچھ پناہ گزینوں کو پلانٹیشن اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں کام کی اجازت دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاہم یہ منصوبہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکا کیونکہ ملازمتوں کی مناسب مطابقت اور مقامی سطح پر انضمام کے مسائل سامنے آئے تھے۔

    دوسری جانب مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم نارتھ ساؤتھ انیشیٹو کے ایڈرین پریرا نے کہا کہ اگر پناہ گزینوں کو روزگار کی قانونی اجازت دی جاتی ہے تو بعض بھرتی کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے مزاحمت سامنے آ سکتی ہے، کیونکہ ان کا کاروبار بیرون ملک سے مزدور لانے پر انحصار کرتا ہے۔

    تاہم انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ متعدد آجر اور کاروباری تنظیمیں اس خیال کی حمایت کرتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کئی صنعتیں افرادی قوت کی مسلسل کمی کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق اگر پناہ گزینوں کو کام کی اجازت دی جاتی ہے تو ان کے لیے مناسب اجرت، محفوظ کام کے حالات، سماجی تحفظ اور مزدور قوانین کے تحت حقوق کی فراہمی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

    سابق رکن پارلیمنٹ چارلس سینٹیاگو نے اس تجویز کو معاشی طور پر فائدہ مند قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پہلے سے موجود پناہ گزینوں کو ملازمت دی جائے تو آجروں کو بیرون ملک سے کارکن لانے پر آنے والے بھاری اخراجات برداشت نہیں کرنا پڑیں گے۔ اس کے بجائے وہ تربیت، رہائش اور مہارتوں کی ترقی پر توجہ دے سکیں گے۔

    ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام پناہ گزین غیر ہنر مند نہیں ہوتے۔ ان میں بعض افراد پیشہ ورانہ اور تکنیکی مہارتوں کے حامل بھی ہوتے ہیں۔ اگر مناسب سرٹیفیکیشن اور قانونی راستے فراہم کیے جائیں تو یہ افراد مختلف شعبوں میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    یاہ کم لینگ کے مطابق یہ تجویز ایک "درمیانی راستہ" ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اس سے مقامی ملازمتوں پر براہ راست دباؤ نہیں پڑے گا بلکہ پناہ گزین ان شعبوں میں کام کریں گے جہاں پہلے ہی غیر ملکی کارکنوں پر انحصار موجود ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مناسب نگرانی نہ کی گئی تو یہ پالیسی مزید پناہ کے متلاشی افراد کو ملائیشیا آنے کی ترغیب بھی دے سکتی ہے۔

    اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت اس تجویز پر پیش رفت کرنا چاہتی ہے تو اسے انسانی ہمدردی، معاشی ضرورت اور قومی سلامتی کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ پناہ گزینوں اور ملکی مفادات دونوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

    COMMENTS

    Name

    Business,7,Current Affairs,317,Employment News,79,Events and Festivals,3,Immigration Operations,238,Legal Rights,14,Life and Finances,11,Malaysian Culture,2,PR and MM2H,2,Student Visa,1,Top Destinations,2,Tourism Updates,8,Travel Tips,2,Visa Updates,13,
    ltr
    item
    نوید سحر: ملائیشیا میں پناہ گزینوں کو روزگار دینے کی تجویز کو قانونی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا
    ملائیشیا میں پناہ گزینوں کو روزگار دینے کی تجویز کو قانونی اور انتظامی چیلنجز کا سامنا
    https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjytgWoHkI34U44XlmhKDejVIJ5fT4idOa3UmVe8NtpGblPeYFLeqD2z0dKSpOxyN4mqWBKSA_I3pDBc1JqCgHrrSqRAa1jo0aRnXiwykwtQt8O_S1SK1L6zQlYYrxJnTovLHcn2CazXSB60jPDSH6vTyaquN79jMugqe2XrouNmQcyvv_602D7sa8XPBo/s320/212401.png
    https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEjytgWoHkI34U44XlmhKDejVIJ5fT4idOa3UmVe8NtpGblPeYFLeqD2z0dKSpOxyN4mqWBKSA_I3pDBc1JqCgHrrSqRAa1jo0aRnXiwykwtQt8O_S1SK1L6zQlYYrxJnTovLHcn2CazXSB60jPDSH6vTyaquN79jMugqe2XrouNmQcyvv_602D7sa8XPBo/s72-c/212401.png
    نوید سحر
    https://urdu.naveedeseher.com/2026/06/malaysia-refugee-employment-proposal-legal-operational-challenges.html
    https://urdu.naveedeseher.com/
    http://urdu.naveedeseher.com/
    http://urdu.naveedeseher.com/2026/06/malaysia-refugee-employment-proposal-legal-operational-challenges.html
    true
    6715705184017377069
    UTF-8
    Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content
    💬 Whatsapp

    Install Naveed e Seher App

    All-in-One Portal For Foreign Workers

    ✔ Visa Check
    ✔ Latest Jobs
    ✔ Immigration News
    ✔ Urdu and English News
    Install Now
    Continue To Website