کوالالمپور: ملائیشیا میں پناہ گزینوں کے انتظام اور پالیسی سے متعلق بحث ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ یونیورسٹی مالایا کے ملائیشین پ...
کوالالمپور: ملائیشیا میں پناہ گزینوں کے انتظام اور پالیسی سے متعلق بحث ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ یونیورسٹی مالایا کے ملائیشین پاپولیشن اینڈ مائیگریشن ریسرچ سینٹر کی سربراہ ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر مشیطہ حمیدی نے تجویز دی ہے کہ ملک کو نئے پناہ گزینوں کی آمد پر عارضی وقفہ یا سخت پابندی عائد کرنے پر غور کرنا چاہیے، تاکہ پہلے ایک مضبوط اور جامع قومی فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔
ڈاکٹر مشیطہ حمیدی کے مطابق ملائیشیا نے کئی دہائیوں سے مختلف پناہ گزین گروہوں، خصوصاً روہنگیا پناہ گزینوں، کی میزبانی کی ہے۔ یہ کردار انسانی ہمدردی اور علاقائی ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے، تاہم جنوب مشرقی ایشیا میں نقل مکانی اور بے دخلی کے بڑھتے ہوئے مسائل اب زیادہ منظم اور پائیدار پالیسی کا تقاضا کرتے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ نئے پناہ گزینوں کی آمد پر عارضی پابندی کو انسانی ہمدردی سے انکار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ ایک انتظامی اور حکومتی اقدام ہو سکتا ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پناہ گزینوں کے تحفظ اور انتظام کا نظام منظم، شفاف اور طویل المدتی بنیادوں پر مؤثر ہو۔
ماہرین کے مطابق اس وقت ملائیشیا کو کئی ساختی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ملک 1951 کے ریفیوجی کنونشن کا فریق نہیں ہے اور نہ ہی ملکی قوانین میں پناہ گزینوں کی قانونی حیثیت مکمل طور پر واضح کی گئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث حکومتی اداروں، آجروں، سماجی تنظیموں، مقامی کمیونٹیز اور خود پناہ گزینوں کے لیے مختلف مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔
موجودہ نظام میں بہت سے پناہ گزین قانونی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ اگرچہ انہیں انسانی بنیادوں پر رہنے کی اجازت دی جاتی ہے، لیکن وہ گرفتاری، استحصال، غیر رسمی روزگار، محدود سہولیات اور سماجی ردعمل جیسے مسائل کا سامنا کر سکتے ہیں۔ اس وجہ سے ایک واضح قانونی اور انتظامی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر مشیطہ حمیدی نے کہا کہ حکومت کو ایسی قانون سازی یا انتظامی قواعد وضع کرنے چاہئیں جن میں پناہ گزین کی تعریف، رجسٹریشن کے طریقہ کار، حقوق اور ذمہ داریاں، ملازمت تک رسائی، آجر کی ذمہ داریاں، ڈیٹا کے تحفظ، مختلف سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ کاری اور نگرانی کے نظام کو واضح کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایک جامع فریم ورک حکومت کو پناہ گزینوں، سیاسی پناہ کے متلاشی افراد، غیر قانونی تارکین وطن، انسانی اسمگلنگ کے متاثرین اور دیگر غیر ملکیوں کے درمیان واضح فرق کرنے میں مدد دے گا۔ یہ فرق نہ صرف انسانی حقوق کے تحفظ بلکہ قومی سلامتی کے لیے بھی اہم ہے۔
اس بحث کا ایک اہم پہلو عوامی اعتماد بھی ہے۔ مقامی آبادی میں بعض اوقات یہ خدشات پائے جاتے ہیں کہ پناہ گزینوں کی بڑی تعداد روزگار، سرکاری خدمات، رہائش اور سماجی ہم آہنگی پر اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ان خدشات کو نظرانداز کرنے کے بجائے شفاف پالیسی، درست اعداد و شمار اور مسلسل عوامی آگاہی کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر مشیطہ نے حالیہ دستاویزی اقدامات کو مثبت پیش رفت قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ صرف رجسٹریشن یا دستاویزات کا اجرا کافی نہیں ہوگا۔ اس عمل کو ملازمت، سماجی خدمات، حفاظتی جانچ پڑتال اور مستقل حل کے وسیع نظام سے جوڑنا ضروری ہے تاکہ پالیسی عملی نتائج دے سکے۔
انہوں نے بین الاقوامی سطح پر زیادہ فعال سفارت کاری کی بھی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق ملائیشیا کو ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ براہ راست رابطے بڑھانے چاہئیں تاکہ پناہ گزینوں کی آبادکاری کے لیے واضح اور مستقل کوٹے حاصل کیے جا سکیں۔ اس میں شمالی امریکہ، یورپ، مشرقی ایشیا اور اوشیانا کے ممالک کے ساتھ تعاون شامل ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملائیشیا کو صرف اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) پر انحصار کرنے کے بجائے خود بھی ذمہ داریوں کی منصفانہ تقسیم کے لیے سفارتی کوششیں کرنی چاہئیں۔ اس کے تحت ترقی یافتہ ممالک سے مالی معاونت، تعلیمی مواقع، مہارتوں کے پروگرام اور آبادکاری کے واضح منصوبوں پر اتفاق رائے حاصل کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر نئے پناہ گزینوں کی آمد پر عارضی وقفہ دیا جائے تو حکومت کو موجودہ اعداد و شمار کا جائزہ لینے، رجسٹریشن کے نظام کو بہتر بنانے، مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور ایک واضح سفارتی حکمت عملی مرتب کرنے کا وقت مل سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق مستقبل میں ملائیشیا کا مقصد صرف پناہ گزینوں کو قبول یا مسترد کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایسا نظام قائم کرنا چاہیے جو قانون، اداروں، سفارت کاری اور علاقائی تعاون کے ذریعے پناہ گزینوں کے معاملات کو مؤثر انداز میں منظم کر سکے۔ اس سے انسانی ہمدردی کے تقاضوں اور قومی مفادات کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

COMMENTS