کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے کہا ہے کہ ملک میں موجود پناہ گزینوں کی اصل تعداد اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے ریکار...
کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے کہا ہے کہ ملک میں موجود پناہ گزینوں کی اصل تعداد اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے ریکارڈ سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ حکام کے مطابق حکومت اب ملک میں موجود تمام پناہ گزینوں کی جامع رجسٹریشن کر رہی ہے، جن میں وہ افراد بھی شامل ہیں جن کے پاس یو این ایچ سی آر کے کارڈ موجود نہیں ہیں۔
امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک ذکریا شعبان نے جمعہ کے روز ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت صرف یو این ایچ سی آر کے فراہم کردہ اعداد و شمار پر انحصار نہیں کر رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ دستیاب معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں موجود پناہ گزینوں کی تعداد سرکاری طور پر درج تعداد سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت ایک منظم رجسٹریشن مہم چلا رہی ہے جس کا مقصد ملک میں موجود تمام پناہ گزینوں کا درست ریکارڈ تیار کرنا ہے۔ اس عمل کے دوران ایسے افراد کو بھی رجسٹر کیا جا رہا ہے جو کسی وجہ سے یو این ایچ سی آر کے ڈیٹا میں شامل نہیں ہیں۔
ذکریا شعبان کے مطابق یو این ایچ سی آر کے موجودہ ریکارڈ میں ملائیشیا میں 2 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ پناہ گزین اور پناہ کے متلاشی افراد شامل ہیں۔ یہ افراد دنیا کے 140 سے زیادہ ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم حکام کا خیال ہے کہ اصل تعداد اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، اسی لیے حکومت نے اپنی الگ رجسٹریشن مہم شروع کی ہے۔
یہ بیان انہوں نے پورٹ ڈکسن میں ملائیشین امیگریشن اکیڈمی میں منعقدہ 2026 سیریز ون بیسک امیگریشن اور ہائر امیگریشن سرٹیفکیٹ کورسز کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پر دیا۔ اس تقریب میں وزارت داخلہ کے سیکریٹری جنرل داتوک ڈاکٹر آوانگ الک جیمن بھی موجود تھے۔
حکام کے مطابق رجسٹریشن کا یہ عمل قومی سلامتی کونسل کی نگرانی میں انجام دیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور یہ رواں سال کے اختتام تک جاری رہے گا۔
ملائیشیا کئی برسوں سے مختلف ممالک سے آنے والے پناہ گزینوں اور پناہ کے متلاشی افراد کی میزبانی کر رہا ہے۔ ان میں بڑی تعداد میانمار، افغانستان، شام اور دیگر تنازعات یا مشکلات کا شکار ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔ چونکہ ملائیشیا 1951 کے ریفیوجی کنونشن کا باقاعدہ فریق نہیں ہے، اس لیے پناہ گزینوں کی شناخت اور انتظام کے لیے اکثر یو این ایچ سی آر کے ریکارڈ کو بنیاد بنایا جاتا رہا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری موجودہ رجسٹریشن مہم کا مقصد ملک میں موجود پناہ گزینوں کے بارے میں زیادہ درست اور مکمل معلومات حاصل کرنا ہے تاکہ مستقبل میں پالیسی سازی، سیکیورٹی نگرانی اور انتظامی امور کو بہتر بنایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ درست اعداد و شمار کی دستیابی سے متعلقہ اداروں کو بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔
ماہرین کے مطابق ایسی رجسٹریشن مہمات حکومتوں کو آبادی کے درست تخمینے، خدمات کی منصوبہ بندی اور قانونی و انتظامی معاملات کو مؤثر انداز میں چلانے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ تاہم اس مرحلے پر حکام نے رجسٹریشن مکمل ہونے سے پہلے کسی حتمی تعداد کا اعلان نہیں کیا۔

COMMENTS