کوالالمپور: ملائیشیا کے معروف تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ اکنامک افیئرز نے حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے مہاجر رجسٹری...
کوالالمپور: ملائیشیا کے معروف تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ اکنامک افیئرز نے حکومت کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے مہاجر رجسٹریشن فریم ورک پر زیادہ شفافیت، واضح پالیسی اور انسانی ہمدردی پر مبنی طرز عمل اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
ادارے نے ایک بیان میں کہا کہ حالیہ عرصے میں خاص طور پر روہنگیا مہاجرین کے خلاف سوشل میڈیا پر منفی اور تقسیم پیدا کرنے والی گفتگو میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ادارے کے مطابق مہاجرین سے متعلق پالیسیوں اور انتظامی امور پر بحث ایک جائز عمل ہے، تاہم ایسے مباحث کو نسل پرستانہ، نفرت انگیز یا غیر انسانی زبان کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ دنیا بھر میں بہت سے مہاجرین اپنی مرضی سے نہیں بلکہ مجبوری کے تحت طویل عرصے تک غیر یقینی صورتحال میں زندگی گزار رہے ہوتے ہیں کیونکہ اپنے آبائی ممالک واپسی ان کی جان اور سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ادارے نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ملائیشیا ان اقوام متحدہ کے رکن ممالک میں شامل ہے جنہوں نے ابھی تک 1951 کے مہاجرین کے کنونشن اور 1967 کے پروٹوکول کی توثیق نہیں کی۔ اس وجہ سے ملک میں مقیم مہاجرین ایک ایسے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں قانونی حیثیت، تحفظ اور بنیادی سہولیات تک رسائی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔
پس منظر کے طور پر، ملائیشیا کی وزارت داخلہ نے رواں ماہ "ریفیوجی رجسٹریشن ڈاکومنٹ" (ڈی پی پی) کے نفاذ کا اعلان کیا تھا، جسے محکمہ امیگریشن کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ وزارت کے مطابق اس عمل کا مقصد مہاجرین اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے کارڈ ہولڈرز سے متعلق درست اور قابل تصدیق معلومات جمع کرنا ہے تاکہ سیکیورٹی، صحت اور معاشی اثرات کا بہتر جائزہ لیا جا سکے۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا تھا کہ ڈی پی پی رجسٹریشن کسی بھی فرد کو ملائیشیا کی شہریت، مستقل رہائش یا ملک میں مستقل قیام کا حق فراہم نہیں کرے گی۔ اس کا مقصد صرف رجسٹریشن اور پالیسی سازی کے لیے درست ڈیٹا اکٹھا کرنا ہے۔
آئیڈیاز نے اس اقدام کو مہاجرین کے انتظام و انصرام کے لیے ایک زیادہ منظم اور شفاف نظام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا، تاہم ادارے کا کہنا ہے کہ اب بھی کئی بنیادی سوالات موجود ہیں۔ ان میں رجسٹر ہونے والے افراد کے حقوق، ذمہ داریوں، تحفظات اور موجودہ معاونتی نظام کے ساتھ اس فریم ورک کے تعلق جیسے امور شامل ہیں۔
ادارے کے مطابق ڈی پی پی کو صرف ایک انتظامی عمل کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اسے ایک ایسے موقع کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے جس کے ذریعے ملائیشیا مہاجرین کے انتظام کے لیے ایک جامع اور متوازن پالیسی تیار کر سکے۔ ایسی پالیسی جو انسانی ہمدردی، عوامی اعتماد اور ملک کے طویل مدتی سماجی و معاشی مفادات کے درمیان توازن پیدا کرے۔
اس مقصد کے لیے آئیڈیاز نے حکومت کو متعدد تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ ان میں واضح قوانین اور نفاذی رہنما اصول، بہتر نگرانی کا نظام، ذاتی اور بایومیٹرک معلومات کے تحفظ کے لیے مضبوط حفاظتی اقدامات اور عوام کے لیے باقاعدہ رپورٹنگ شامل ہیں۔
ادارے نے یہ بھی تجویز دی کہ اگر مہاجرین کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو انہیں قومی لیبر قوانین اور ملازمین کے تحفظ سے متعلق ضوابط کے مطابق ہونا چاہیے۔ مزید برآں مختلف سرکاری اداروں، مقامی حکومتوں، سول سوسائٹی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کے درمیان تعاون کو بھی مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
آئیڈیاز کی چیف ایگزیکٹو آفیسر عائرہ اظہری نے کہا کہ شفافیت ہی وہ عنصر ہے جو عوامی اعتماد کو فروغ دے سکتی ہے اور مہاجرین سے متعلق پالیسیوں پر حقائق پر مبنی گفتگو کو ممکن بناتی ہے۔ ان کے مطابق جب عوام کو پالیسیوں، ان کے اخراجات، چیلنجز اور فیصلوں کے پس منظر سے آگاہ رکھا جاتا ہے تو اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مہاجرین کے مسئلے کا پائیدار حل صرف حکومتی اداروں کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے آجرین، سول سوسائٹی، بین الاقوامی تنظیموں اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان قریبی تعاون ضروری ہے۔
عائرہ اظہری نے عوام پر زور دیا کہ خوف، غلط معلومات یا تعصب کو انسانی وقار اور بنیادی انسانی اصولوں پر حاوی نہ ہونے دیا جائے۔ ان کے مطابق کسی بھی منصفانہ اور ترقی یافتہ معاشرے کا معیار اس بات سے بھی طے ہوتا ہے کہ وہ اپنے کمزور اور ضرورت مند افراد کے ساتھ کس طرح کا رویہ اختیار کرتا ہے۔

COMMENTS