پیٹالنگ جایا: ملائیشیا کی وزارت داخلہ نے مہاجر اور غیر قانونی تارکین وطن بچوں، خصوصاً روہنگیا بچوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے الزامات کو مس...
پیٹالنگ جایا: ملائیشیا کی وزارت داخلہ نے مہاجر اور غیر قانونی تارکین وطن بچوں، خصوصاً روہنگیا بچوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ان بچوں کی بنیادی ضروریات، صحت اور تعلیم کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ دعویٰ درست نہیں کہ مہاجر بچوں کو بغیر تحفظ کے حراستی مراکز میں رکھا جاتا ہے یا انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جاتا ہے۔ وزارت کے مطابق حکومت غیر دستاویزی تارکین وطن اور پناہ گزینوں کے انتظام کے لیے متوازن اور منظم پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ حکومت نے "بیت المحبہ" پروگرام متعارف کرایا ہے جو 12 سال یا اس سے کم عمر بچوں اور ان کے سرپرستوں کے لیے ایک عارضی رہائشی مرکز کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت بچوں کو روایتی امیگریشن حراستی مراکز سے منتقل کر کے نسبتاً بہتر ماحول میں رکھا جاتا ہے، جبکہ ان کی دستاویزات، شناخت اور قانونی حیثیت کی جانچ کا عمل مکمل کیا جاتا ہے۔
وزارت کے مطابق بیت المحبہ میں بچوں کو خوراک، رہائش، طبی سہولیات، تحفظ اور عمر کے مطابق تفریحی سرگرمیوں تک رسائی فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ غیر رسمی تعلیمی سرگرمیاں اور بنیادی تربیتی پروگرام بھی اس منصوبے کا حصہ ہیں تاکہ بچوں کی ذہنی اور سماجی نشوونما متاثر نہ ہو۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ مرکز ایک عبوری اقدام ہے اور مستقبل میں بچوں کے لیے حراست کے متبادل نظام کی تیاری جاری ہے۔ اس مقصد کے لیے وزارتِ خواتین، خاندانی و سماجی ترقی، مختلف سرکاری اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔
وزارت نے مزید بتایا کہ حکومت مرحلہ وار بیت المحبہ پروگرام کی گنجائش اور دائرہ کار میں توسیع کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ دیگر عمر کے بچوں کو بھی اس میں شامل کیا جا سکے۔ تاہم اس حوالے سے سہولیات، حفاظتی تقاضوں، بچوں کے تحفظ کے اصولوں اور متعلقہ اداروں کی استعداد کو مدنظر رکھا جائے گا۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جبری نقل مکانی اور مہاجرت کے بنیادی اسباب کو حل کرنے کے لیے صرف میزبان ممالک ہی نہیں بلکہ متاثرہ ممالک، بین الاقوامی اداروں اور علاقائی شراکت داروں کو بھی زیادہ ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
وزارت کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں میں جاری تنازعات، غربت اور طویل المدتی سیاسی مسائل انسانی اسمگلنگ اور مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حرکت کو بڑھا رہے ہیں۔ ایسے حالات میں بچوں کو اکثر اسمگلنگ نیٹ ورکس اور جرائم پیشہ گروہوں کا نشانہ بننا پڑتا ہے، جس سے ان کے تحفظ کے مسائل مزید سنگین ہو جاتے ہیں۔
یہ وضاحت ایک ایسی ویڈیو دوبارہ گردش میں آنے کے بعد سامنے آئی جس میں روہنگیا کارکن نور عزیزہ آسٹریلیا کی ایک یونیورسٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ملائیشیا میں دو ہزار سے زائد روہنگیا بچے امیگریشن مراکز میں بند ہیں اور اسکولوں کے بجائے حراستی ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملائیشیا میں تقریباً 2 لاکھ 15 ہزار 600 رجسٹرڈ مہاجرین اور پناہ کے متلاشی افراد موجود ہیں۔ ان میں 1 لاکھ 93 ہزار 824 افراد میانمار سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ 1 لاکھ 26 ہزار 144 روہنگیا برادری کے افراد شامل ہیں۔
یہ معاملہ حالیہ مہینوں میں ملائیشیا کی مہاجرین سے متعلق پالیسیوں پر جاری بحث کا حصہ بن چکا ہے۔ حکومت ایک طرف سرحدی اور امیگریشن قوانین پر عملدرآمد پر زور دے رہی ہے جبکہ دوسری جانب انسانی ہمدردی کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

COMMENTS