کوالالمپور: ملائیشیا میں روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے مطالبے پر مبنی ایک آن لائن درخواست نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹ...
کوالالمپور: ملائیشیا میں روہنگیا پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے مطالبے پر مبنی ایک آن لائن درخواست نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کے حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ مختلف تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی مہمات نہ صرف غلط معلومات کو فروغ دیتی ہیں بلکہ معاشرے میں نفرت اور امتیازی رویوں کو بھی تقویت دے سکتی ہیں۔
یہ درخواست
Change.org
پر
"Aku Anak Malaysia"
کے نام سے ایک صارف کی جانب سے شائع کی گئی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کی موجودگی ملائیشیا کے وسائل، بنیادی ڈھانچے اور سماجی خدمات پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہے۔ درخواست میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ روہنگیا افراد کو ملک سے بے دخل کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔
تاہم انسانی حقوق کی تنظیم "پوسات کوماس" نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ درخواست میں پیش کیے گئے دعوے حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ تنظیم کے مطابق روہنگیا برادری ملائیشیا کی مجموعی آبادی کا تقریباً 0.4 فیصد حصہ ہے، اس لیے انہیں ملک کے معاشی یا سماجی مسائل کا بنیادی سبب قرار دینا درست نہیں۔
تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ اس قسم کے بیانیے روہنگیا برادری کو صرف ایک بوجھ کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ ان کی معاشی شراکت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ کوماس کے مطابق روہنگیا افراد میں سے بہت سے لوگ مشکل حالات کے باوجود مختلف شعبوں میں کام کرتے ہیں اور ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پناہ گزین اکثر غیر یقینی قانونی حیثیت، محدود مواقع اور استحصال کے خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ محنت مزدوری اور دیگر روزگار کے ذریعے اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں اور مقامی معیشت کا حصہ بنتے ہیں۔
کوماس نے چینج ڈاٹ او آر جی سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ درخواست کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ درخواست میں ایسے دعوے اور مواد شامل ہیں جو ایک مخصوص نسلی گروہ کو نشانہ بناتے ہیں اور پلیٹ فارم کی اپنی کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق اصل تشویش صرف آن لائن درخواست تک محدود نہیں بلکہ اس کے ممکنہ سماجی اثرات بھی اہم ہیں۔ تنظیم نے نشاندہی کی کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر روہنگیا افراد کے خلاف نفرت انگیز تبصروں اور تشدد پر اکسانے والے پیغامات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
کوماس کا کہنا ہے کہ بعض آن لائن پوسٹس میں روہنگیا پناہ گزینوں کے گھروں اور رہائشی مقامات پر حملوں کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ تنظیم کے مطابق اس طرح کی زبان اور مہمات حقیقی دنیا میں تشدد کے خطرات کو بڑھا سکتی ہیں اور کمزور طبقات کی سلامتی کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں اور مہاجرین سے متعلق معاملات اکثر پیچیدہ نوعیت کے ہوتے ہیں اور ان پر عوامی بحث حقائق، اعداد و شمار اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ کسی بھی کمیونٹی کے بارے میں عمومی یا غیر مصدقہ دعوے معاشرتی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتے ہیں۔
روہنگیا پناہ گزینوں کا مسئلہ کئی برسوں سے جنوب مشرقی ایشیا میں ایک اہم انسانی مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔ میانمار میں بدامنی اور حالاتِ زندگی کے باعث ہزاروں روہنگیا افراد مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ ملائیشیا بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں بڑی تعداد میں روہنگیا پناہ گزین مقیم ہیں۔
سول سوسائٹی تنظیموں کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں سے متعلق پالیسی سازی اور عوامی گفتگو میں متوازن اور حقائق پر مبنی معلومات کا استعمال ضروری ہے تاکہ معاشرے میں نفرت، غلط فہمیوں اور امتیازی رویوں کو فروغ نہ ملے۔ ان کا مؤقف ہے کہ مسائل کے حل کے لیے قانونی، انسانی اور معاشی پہلوؤں کو ایک ساتھ مدنظر رکھنا چاہیے۔

COMMENTS