کوالالمپور: ملائیشیا کی وزارت سرمایہ کاری، تجارت اور صنعت (ایم آئی ٹی آئی) نے ملک میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے غیر ملکی کاروباری افر...
کوالالمپور: ملائیشیا کی وزارت سرمایہ کاری، تجارت اور صنعت (ایم آئی ٹی آئی) نے ملک میں غیر قانونی طور پر کام کرنے والے غیر ملکی کاروباری افراد کے خلاف کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مقامی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو درپیش غیر منصفانہ مقابلے کے مسائل کے حل کے لیے کیا جا رہا ہے۔
وزارت کے نائب وزیر سم تزی تزن نے کہا کہ مقامی صنعتوں اور کاروباری حلقوں کی جانب سے متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں الزام لگایا گیا ہے کہ بعض غیر ملکی افراد غیر قانونی طور پر کاروبار چلا رہے ہیں جس سے مقامی تاجروں اور چھوٹے کاروباروں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے جارج ٹاؤن میں پینانگ چائنیز چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام ایک مکالمہ سیشن کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم داتوک سری انور ابراہیم نے مختلف حکومتی اداروں کو ہدایت دی ہے کہ ایسے غیر قانونی کاروباروں کے خلاف مربوط اور وسیع پیمانے پر کارروائی کی جائے جو ملکی قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
سم تزی تزن کے مطابق حکومت قانونی سرمایہ کاری اور قانون کے مطابق کاروبار کرنے والوں کا خیر مقدم کرتی ہے، تاہم ایسے عناصر کے خلاف کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی جو قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور مقامی کاروباروں کے مواقع اور آمدنی کو متاثر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مقامی مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اکثر اس وجہ سے نقصان میں رہتے ہیں کیونکہ بعض غیر قانونی کاروباری افراد ٹیکس ادا نہیں کرتے اور نہ ہی کاروباری ضوابط و شرائط کی مکمل پابندی کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مارکیٹ میں غیر منصفانہ مقابلے کی صورتحال پیدا ہوتی ہے جس کا براہ راست اثر مقامی تاجروں پر پڑتا ہے۔
نائب وزیر نے ایک حالیہ مثال دیتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے بعض علاقوں میں ایسے معاملات کا مشاہدہ کیا ہے جہاں غیر ملکی گروہوں نے پورے کاروباری سلسلے پر اثر و رسوخ قائم کر لیا، جس کے باعث مقامی صنعتوں اور کاروباری افراد کو متوقع معاشی فوائد حاصل نہیں ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض غیر ملکی افراد وزٹ ویزا، سیاحتی ویزا یا دیگر سہولیات کے تحت ملائیشیا میں داخل ہوتے ہیں لیکن بعد میں غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے بھی چلائی جاتی ہیں اور بعض صورتوں میں فزیکل کاروبار بھی قائم کیے جاتے ہیں۔
سم تزی تزن نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے کیونکہ اس سے نہ صرف مقامی کاروبار متاثر ہوتے ہیں بلکہ مقامی کارکنوں کے روزگار کے مواقع بھی محدود ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے متعلقہ اداروں کو نگرانی اور نفاذ کے اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم انور ابراہیم نے چند روز قبل غیر ملکیوں کی جانب سے وزٹ اور طلبہ ویزا کے غلط استعمال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ کچھ افراد قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے کے بعد ایسے کاروباروں میں مصروف ہو جاتے ہیں جن کی انہیں اجازت نہیں ہوتی۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ملکی قوانین کی پابندی تمام افراد پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے اور کاروباری سرگرمیوں کو قانونی دائرے میں رکھنا ضروری ہے تاکہ مقامی معیشت، کاروباری ماحول اور روزگار کے مواقع محفوظ رہ سکیں۔
وزارت کے مطابق آئندہ دنوں میں مختلف اداروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ غیر قانونی کاروباری نیٹ ورکس کی نشاندہی کی جا سکے اور ان کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

COMMENTS