ایپوہ: ملائیشیا کی حکومت نے غیر قانونی تعمیرات اور غیر مجاز آبادیوں کے خلاف اپنی پالیسی مزید سخت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایسی عمارتیں ج...
ایپوہ: ملائیشیا کی حکومت نے غیر قانونی تعمیرات اور غیر مجاز آبادیوں کے خلاف اپنی پالیسی مزید سخت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ایسی عمارتیں جو سرکاری منصوبہ بندی اور قانونی منظوری کے بغیر تعمیر کی گئی ہوں، انہیں پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جائیں گی۔
وزیرِ ہاؤسنگ و مقامی حکومت داتک سری اینگا کور منگ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد ملک میں غیر قانونی بستیوں کے قیام کی روک تھام کرنا ہے، جن میں بعض ایسی آبادیاں بھی شامل ہیں جو غیر ملکی برادریوں، خصوصاً روہنگیا پناہ گزینوں سے منسلک سمجھی جاتی ہیں۔
انہوں نے ایپوہ میں غیر دعویٰ شدہ رقوم سے متعلق ایک موبائل سروس کاؤنٹر کے دورے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روہنگیا پناہ گزینوں کا معاملہ بنیادی طور پر محکمہ امیگریشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، جو باقاعدگی سے نگرانی اور نفاذی کارروائیاں انجام دیتا ہے۔
وزیر نے واضح کیا کہ حکومت کی پالیسی اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ جو بھی شخص انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یا پناہ گزین کے طور پر ملائیشیا میں داخل ہو، اسے متعلقہ حکومتی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی آبادکاری یا غیر مجاز تعمیرات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سلانگور کے ضلع ہولو لنگات کے علاقے سنگائی تکالی میں روہنگیا برادری سے منسوب ایک غیر مجاز چار منزلہ عمارت کی تعمیر سے متعلق رپورٹس منظر عام پر آئیں۔ حکام کے مطابق ایسی تعمیرات مقامی منصوبہ بندی کے قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
اینگا کور منگ نے بتایا کہ حکومت غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں کے خلاف بھی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق رواں سال مئی تک ملک بھر میں تقریباً 4,000 نفاذی کارروائیاں کی گئیں جن کے نتیجے میں غیر ملکی شہریوں کے زیرِ انتظام 26,108 کاروباری لائسنس منسوخ کیے گئے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ملائیشیا کے قوانین کے تحت غیر ملکی شہریوں کو کاروبار چلانے یا کاروباری لائسنس رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ وہ مخصوص شرائط کے تحت ملازم کے طور پر کام کر سکتے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ کاروباری ملکیت اور لائسنسنگ کے قوانین کی پابندی ملکی معیشت اور مقامی تاجروں کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
وزیر نے مزید کہا کہ ملک بھر کے مقامی حکومتی اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی تارکینِ وطن، غیر قانونی کاروباروں اور مشکوک سرگرمیوں کے خلاف اپنی کارروائیوں میں مزید تیزی لائیں۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ اگر انہیں کسی غیر قانونی سرگرمی یا غیر قانونی تارکینِ وطن کی موجودگی کے بارے میں معلومات ہوں تو وہ متعلقہ حکام کو آگاہ کریں۔
اسی موقع پر انہوں نے غیر دعویٰ شدہ رقوم سے متعلق حکومتی مہم کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کیں۔ ان کے مطابق اس وقت تقریباً 13 ارب رنگٹ ایسی رقم موجود ہے جسے اس کے اصل مالکان حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو اپنی حیثیت جانچنے اور اگر ان کے نام کوئی رقم موجود ہو تو اسے حاصل کرنے کی ترغیب دی۔
اینگا کور منگ نے بتایا کہ اس رقم کے حصول کا طریقہ کار نسبتاً آسان ہے۔ شہریوں کو صرف اپنا قومی شناختی کارڈ اور بینک اسٹیٹمنٹ فراہم کرنا ہوگی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ غیر دعویٰ شدہ رقوم کا یہ نظام 1965 کے قانون کی دفعہ 13(1) کے تحت چلایا جاتا ہے، جس کے مطابق سات سال سے زائد عرصے تک غیر استعمال شدہ رقوم کو اکاؤنٹنٹ جنرل کے زیرِ انتظام غیر دعویٰ شدہ رقوم کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا جاتا ہے۔
ان کے مطابق یہ تمام رقم اصل مالکان کی ملکیت رہتی ہے، لیکن بہت سے افراد اس بات سے لاعلم ہوتے ہیں کہ ان کے نام پر ایسی رقم موجود ہے۔ اسی مقصد کے لیے حکومت عوامی آگاہی مہم شروع کر رہی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اپنے مالی حقوق سے فائدہ اٹھا سکیں۔
پس منظر کے طور پر، ملائیشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران غیر قانونی تعمیرات، غیر قانونی کاروباری سرگرمیوں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانا، مقامی آبادی کے مفادات کا تحفظ کرنا اور شہری منصوبہ بندی کے اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

COMMENTS