کوالالمپور: ملائیشیا کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اگر پناہ گزینوں کو روزگار تک رسائی دی جاتی ہے تو انہیں صرف ان شعبوں میں کام کرنے کی اجازت ...
کوالالمپور: ملائیشیا کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اگر پناہ گزینوں کو روزگار تک رسائی دی جاتی ہے تو انہیں صرف ان شعبوں میں کام کرنے کی اجازت ہوگی جہاں افرادی قوت کی کمی ہے اور جہاں غیر ملکی کارکنوں پر زیادہ انحصار کیا جاتا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ مقامی شہریوں کے لیے روزگار کی ترجیح برقرار رکھی جائے گی۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پناہ گزینوں کے لیے ممکنہ طور پر دستیاب روزگار کے شعبوں میں شجرکاری، زراعت اور تعمیرات شامل ہوں گے۔ یہ وہ شعبے ہیں جہاں طویل عرصے سے مزدوروں کی کمی کا سامنا ہے اور جہاں غیر ملکی کارکنوں کا کردار نمایاں رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اگر کسی فرد کو قانونی طور پر کام کرنے کی اجازت دی جاتی ہے تو اسے ملائیشیا کے تمام لیبر قوانین اور ضوابط کی مکمل پابندی کرنا ہوگی۔ اس میں کم از کم اجرت کی ادائیگی، کارکنوں کے حقوق کا تحفظ اور دیگر قانونی تقاضے شامل ہوں گے۔
وزارت کے مطابق اس پالیسی کا ایک اہم مقصد مزدوروں کے استحصال کو روکنا اور مقامی و غیر ملکی کارکنوں کے درمیان منصفانہ مسابقت کو یقینی بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تمام ملازمین کے لیے یکساں قانونی تحفظ فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی مزدوری یا کم اجرت کے مسائل سے بچا جا سکے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملائیشیا پناہ گزینوں اور اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (ہو این ایچ سی آر) کے کارڈ ہولڈرز سے متعلق اپنی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں حکومت نے پناہ گزینوں کی رجسٹریشن اور بائیومیٹرک دستاویزات کے پروگرام کے بارے میں بھی معلومات جاری کی ہیں، جس کا مقصد ملک میں موجود افراد کی شناخت اور پس منظر سے متعلق زیادہ درست معلومات حاصل کرنا ہے۔
ملائیشیا میں پناہ گزینوں کے روزگار کا مسئلہ کئی برسوں سے زیر بحث ہے۔ کاروباری اور صنعتی شعبوں کا مؤقف رہا ہے کہ بعض صنعتوں میں مزدوروں کی کمی کے باعث اضافی افرادی قوت کی ضرورت ہے، جبکہ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ مقامی کارکنوں کے روزگار کے مواقع متاثر نہ ہوں۔
حکام کے مطابق کسی بھی ممکنہ روزگار پالیسی کا مقصد مقامی ملازمتوں کا تحفظ کرتے ہوئے ان شعبوں کی ضروریات پوری کرنا ہوگا جہاں مزدوروں کی شدید کمی موجود ہے۔ اسی لیے حکومت نے واضح کیا ہے کہ پناہ گزینوں کو وسیع پیمانے پر تمام شعبوں میں کام کی اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ صرف مخصوص شعبوں تک رسائی محدود رکھی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زراعت، تعمیرات اور شجرکاری جیسے شعبے ملائیشیا کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن ان شعبوں میں مقامی کارکنوں کی دلچسپی نسبتاً کم ہونے کے باعث اکثر غیر ملکی مزدوروں پر انحصار کیا جاتا ہے۔ حکومت کی نئی پالیسی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔
وزارت داخلہ نے ایک بار پھر زور دیا کہ ملکی قوانین، کم از کم اجرت کے ضوابط اور کارکنوں کے حقوق کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی شہریوں کے لیے روزگار کی ترجیح بھی برقرار رہے گی۔

COMMENTS