کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی ماہرین اور پیشہ ور افراد کو ملازمت دینے والی کمپنیوں کے لیے ایک نئی شرط متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی...
کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی ماہرین اور پیشہ ور افراد کو ملازمت دینے والی کمپنیوں کے لیے ایک نئی شرط متعارف کرانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ حکومت کی جانب سے نافذ کی گئی نئی ایکسپیٹری ایٹ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت یکم جنوری 2027 سے ایم ڈی ای سی اور ای ایس ڈی میں رجسٹرڈ تمام کمپنیوں کے لیے سکسیشن پلان کا اعلان جمع کرانا لازمی ہوگا۔
یہ شرط یکم جون 2026 سے نافذ ہونے والی نئی پالیسی کا حصہ ہے، تاہم کمپنیوں کو تیاری کا مناسب وقت دینے کے لیے اس پر مکمل عملدرآمد یکم جنوری 2027 سے شروع کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس مرحلہ وار طریقہ کار کا مقصد کمپنیوں کو نئی ضروریات کے مطابق اپنے داخلی نظام اور افرادی قوت کی منصوبہ بندی کا موقع فراہم کرنا ہے۔
سکسیشن پلان دراصل ایک ایسا فریم ورک ہوتا ہے جس کے ذریعے کسی ادارے میں کام کرنے والے غیر ملکی ماہرین اور ملازمین اپنی مہارت، تجربہ اور پیشہ ورانہ معلومات مقامی ملازمین کو منتقل کرتے ہیں۔ حکومت کا مقصد یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ مقامی افرادی قوت کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو اور اہم شعبوں میں مہارت کا تسلسل برقرار رہے۔
نئی پالیسی کے تحت ایم ڈی ای سی اور ای ایس ڈی رجسٹرڈ کمپنیوں کو یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ وہ اپنے غیر ملکی ملازمین کی موجودگی کے دوران مقامی کارکنوں کی تربیت اور استعداد کار بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہیں۔ اس عمل کے ذریعے غیر ملکی مہارت کو مقامی افرادی قوت تک منتقل کرنے کا ایک باقاعدہ نظام قائم کیا جائے گا۔
اگرچہ یہ شرط ابھی نافذ نہیں ہوئی، تاہم متعلقہ اداروں نے کمپنیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ابھی سے اپنی سکسیشن پلاننگ سے متعلق معلومات اور دستاویزات تیار کرنا شروع کر دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جلد تیاری سے مستقبل میں تعمیل کے مسائل اور آخری وقت کی مشکلات سے بچا جا سکتا ہے۔
اس وقت حکومت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے سکسیشن پلان کے فارمیٹ، مطلوبہ معلومات یا دستاویزات کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔ تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے مہینوں میں مزید رہنما اصول اور وضاحتیں فراہم کی جائیں گی تاکہ کمپنیاں اپنی ذمہ داریوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔
ملائیشیا حالیہ برسوں میں مقامی افرادی قوت کی ترقی اور مہارتوں میں اضافے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ اسی سلسلے میں مختلف شعبوں میں ایسی پالیسیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں جن کا مقصد غیر ملکی ماہرین کی خدمات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مقامی افراد کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق سکسیشن پلاننگ کا مؤثر نظام اداروں کو طویل المدتی استحکام فراہم کر سکتا ہے کیونکہ اس سے اہم عہدوں اور تکنیکی مہارتوں کا تسلسل برقرار رہتا ہے۔ اس کے علاوہ مقامی ملازمین کو ترقی کے بہتر مواقع بھی حاصل ہوتے ہیں۔
کمپنیوں کے لیے اگرچہ یکم جنوری 2027 کی ڈیڈ لائن ابھی کچھ دور ہے، لیکن متعلقہ اداروں نے واضح کیا ہے کہ منصوبہ بندی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ جلد تیاری کرنے والی کمپنیاں نئی پالیسی کے تقاضوں کو زیادہ آسانی سے پورا کر سکیں گی اور کسی بھی ممکنہ قانونی یا انتظامی مسئلے سے بچ سکیں گی۔

COMMENTS