کوالالمپور: ملائیشیا کی وفاقی حکومت نے ریسٹورنٹ اور تعمیراتی شعبوں میں غیر ملکی کارکنوں کے کوٹے سے متعلق کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل مزید تفص...
کوالالمپور: ملائیشیا کی وفاقی حکومت نے ریسٹورنٹ اور تعمیراتی شعبوں میں غیر ملکی کارکنوں کے کوٹے سے متعلق کسی بھی حتمی فیصلے سے قبل مزید تفصیلی افرادی قوت کا ڈیٹا جمع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مختلف صنعتوں کی حقیقی ضروریات کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی اس معاملے پر پالیسی سطح کا فیصلہ کیا جائے گا۔
وزیرِ مواصلات داتوک فہمی فاضل کے مطابق وزیر اعظم داتوک سری انور ابراہیم نے متعدد وزارتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ متعلقہ صنعتوں کے نمائندوں اور کاروباری اداروں سے مشاورت کریں اور افرادی قوت کی ضروریات کے بارے میں جامع معلومات حاصل کریں۔
انہوں نے کہا کہ ملائیشیا میں اس وقت غیر ملکی کارکنوں کی مجموعی تعداد کو محدود رکھنے کی پالیسی نافذ ہے، اس لیے حکومت کو مختلف شعبوں کی اصل ضرورت کا درست اندازہ لگانا ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے وزارتِ انسانی وسائل، وزارتِ داخلی تجارت و لاگتِ زندگی، وزارتِ ہاؤسنگ و مقامی حکومت اور وزارتِ تعمیرات کو صنعتوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کا ٹاسک دیا گیا ہے۔
فہمی فاضل نے وضاحت کی کہ ان وزارتوں کی جانب سے جمع کی جانے والی معلومات میں مقامی اور غیر ملکی کارکنوں کی طلب، افرادی قوت کی کمی، مستقبل کی ضروریات اور مختلف شعبوں میں دستیاب مہارتوں کا جائزہ شامل ہوگا۔ بعد ازاں یہ معلومات کابینہ کے سامنے پیش کی جائیں گی تاکہ پالیسی سازی کے لیے جامع غور و خوض کیا جا سکے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملائیشیا اپنی معیشت کو زیادہ ترقی یافتہ اور بلند قدر کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ ملک کو طویل مدت میں سستی غیر ملکی مزدوری پر انحصار کم کرنا ہوگا اور مقامی افرادی قوت کی مہارتوں کو بہتر بنانا ہوگا۔
گزشتہ ماہ وزیر اعظم انور ابراہیم نے بھی اس بات پر زور دیا تھا کہ ملائیشیا کو غیر ملکی مزدوروں پر حد سے زیادہ انحصار ختم کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق ملک کی اقتصادی ترقی کا اگلا مرحلہ زیادہ مہارت رکھنے والے مقامی کارکنوں اور جدید صنعتوں پر مبنی ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا تھا کہ حکومت تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے اداروں، جامعات اور کالجوں کی استعداد کار بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ مقامی نوجوانوں کو بہتر مہارتیں فراہم کی جا سکیں۔ اس اقدام کا مقصد مستقبل میں ملکی صنعتوں کی افرادی قوت کی ضروریات کو مقامی سطح پر پورا کرنا ہے۔
ماہرین کے مطابق ملائیشیا کے کئی شعبے، خصوصاً تعمیرات، مینوفیکچرنگ، زراعت اور خوراک و ریسٹورنٹ انڈسٹری، طویل عرصے سے غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کرتے رہے ہیں۔ تاہم حکومت اب ایسی پالیسیوں پر غور کر رہی ہے جو مقامی افرادی قوت کی شمولیت میں اضافہ کریں اور معیشت کو زیادہ پیداواری اور جدید بنائیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کسی بھی شعبے میں غیر ملکی کارکنوں کے کوٹے سے متعلق فیصلہ کرتے وقت اقتصادی ضروریات، مقامی روزگار کے مواقع، کاروباری شعبے کی ضروریات اور ملکی ترقیاتی اہداف کو مدنظر رکھا جائے گا۔ اسی لیے موجودہ مرحلے میں معلومات اکٹھی کرنے اور صنعتی مشاورت کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق حتمی فیصلہ کابینہ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا، جبکہ اس دوران مختلف وزارتیں متعلقہ صنعتوں سے رابطے جاری رکھیں گی تاکہ افرادی قوت کی صورتحال کی مکمل اور درست تصویر سامنے آ سکے۔

COMMENTS