پوتراجایا: ملائیشیا کے محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ لیبر فورس اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں ملک کی بے روزگاری کی شرح بڑ...
پوتراجایا: ملائیشیا کے محکمہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ تازہ لیبر فورس اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں ملک کی بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 3.0 فیصد ہو گئی۔ اس دوران مجموعی طور پر 5 لاکھ 11 ہزار 800 افراد بے روزگار ریکارڈ کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں بے روزگاری کی شرح 2.9 فیصد تھی، جو اپریل میں 0.1 فیصد پوائنٹ اضافے کے بعد دوبارہ 3.0 فیصد کی سطح پر آ گئی۔ یہ وہی سطح ہے جو اکتوبر 2025 میں دیکھی گئی تھی۔
محکمہ شماریات کے چیف اسٹیٹسٹیشن داتک سری ڈاکٹر محمد عزیر مہیدین نے کہا کہ بے روزگاری میں معمولی اضافے کے باوجود ملک میں ملازمت یافتہ افراد کی تعداد میں اضافہ جاری رہا۔ اپریل 2026 میں ملازمت رکھنے والوں کی تعداد 16.82 ملین تک پہنچ گئی، جو مارچ کے 16.80 ملین افراد کے مقابلے میں 0.1 فیصد زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ملازمین کا زمرہ کل روزگار یافتہ افراد کا 75 فیصد بنتا ہے۔ اس شعبے میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا اور ملازمین کی تعداد 12.60 ملین سے بڑھ کر 12.61 ملین ہو گئی۔
اسی طرح خود روزگار افراد کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اپریل میں یہ تعداد 3.15 ملین تک پہنچ گئی، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 0.2 فیصد زیادہ ہے۔ یہ رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ زیادہ افراد روایتی ملازمتوں کے علاوہ آزادانہ یا ذاتی کاروباری سرگرمیوں کی طرف بھی راغب ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بے روزگار افراد میں سے 79.5 فیصد ایسے تھے جو فعال طور پر روزگار کی تلاش میں تھے اور فوری طور پر کام کرنے کے لیے دستیاب تھے۔ اس زمرے میں شامل افراد کی تعداد 4 لاکھ 7 ہزار 100 رہی، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 0.3 فیصد زیادہ ہے۔
مزید تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ فعال بے روزگار افراد میں سے 63.9 فیصد ایسے تھے جو تین ماہ سے کم عرصے سے روزگار کی تلاش میں تھے۔ دوسری جانب 5 فیصد افراد ایک سال سے زائد عرصے سے بے روزگاری کا سامنا کر رہے تھے، جنہیں طویل المدتی بے روزگار قرار دیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں غیر فعال بے روزگار افراد کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس زمرے میں وہ افراد شامل ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے لیے مناسب ملازمت دستیاب نہیں ہے، اس لیے وہ فعال طور پر روزگار تلاش نہیں کر رہے۔ اپریل میں ایسے افراد کی تعداد 1 لاکھ 4 ہزار 700 ریکارڈ کی گئی، جو مارچ کے 1 لاکھ 3 ہزار 200 افراد کے مقابلے میں 1.5 فیصد زیادہ ہے۔
ملائیشیا کی مجموعی لیبر فورس کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد عزیر مہیدین نے کہا کہ ملکی لیبر مارکیٹ میں اب بھی بتدریج ترقی کا رجحان برقرار ہے، جو معیشت کی مسلسل توسیع اور معاشی سرگرمیوں میں استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2026 میں لیبر فورس کی مجموعی تعداد 17.33 ملین افراد تک پہنچ گئی، جبکہ مارچ میں یہ تعداد 17.31 ملین تھی۔ اس طرح لیبر فورس میں 0.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب لیبر فورس پارٹیسپیشن ریٹ 70.9 فیصد پر برقرار رہا، جو مارچ 2026 کے برابر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کام کرنے کی عمر کے افراد کی ایک بڑی تعداد روزگار یا روزگار کی تلاش کے عمل میں شامل رہی۔
معاشی ماہرین کے مطابق 3 فیصد کے قریب بے روزگاری کی شرح کو عمومی طور پر نسبتاً مستحکم لیبر مارکیٹ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تاہم روزگار کے معیار، اجرتوں، اور طویل المدتی بے روزگاری جیسے عوامل پر مسلسل توجہ دینا ضروری رہتا ہے تاکہ اقتصادی ترقی کے فوائد زیادہ وسیع پیمانے پر عوام تک پہنچ سکیں۔
یہ تازہ اعداد و شمار اس بات کی بھی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگرچہ بے روزگاری میں معمولی اضافہ ہوا ہے، لیکن ملازمت یافتہ افراد کی تعداد اور لیبر فورس دونوں میں اضافہ ملکی معیشت میں جاری سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع کی دستیاب صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

COMMENTS