پورٹ ڈکسن: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن (جے آئی ایم) نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے کارڈ ر...
پورٹ ڈکسن: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن (جے آئی ایم) نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے کارڈ رکھنے والے افراد بھی ملکی قوانین سے مستثنیٰ نہیں ہیں اور اگر وہ کسی جرم یا قانونی خلاف ورزی میں ملوث پائے جائیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شعبان نے کہا کہ اگرچہ درست یو این ایچ سی آر کارڈ رکھنے والے افراد کو صرف دستاویزات نہ ہونے کی بنیاد پر حراست میں نہیں لیا جاتا، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں مکمل قانونی استثنیٰ حاصل ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی یو این ایچ سی آر کارڈ ہولڈر کسی فوجداری جرم یا دیگر قانونی خلاف ورزی میں ملوث ہو تو متعلقہ ادارے اس کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایسے افراد جن کے پاس کوئی قانونی سفری یا شناختی دستاویز موجود نہ ہو، انہیں امیگریشن قوانین کے تحت حراست میں لے کر امیگریشن ڈپو منتقل کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اگر کسی شخص کے پاس درست یو این ایچ سی آر کارڈ موجود ہو تو امیگریشن حکام اس کی جانچ پڑتال کرتے ہیں اور انسانی حقوق کے اصولوں کے تحت صرف امیگریشن بنیادوں پر انہیں حراست میں نہیں لیا جاتا۔
زکریا شعبان نے یہ بیان ملائیشین امیگریشن اکیڈمی میں منعقدہ ایک تقریب کے بعد دیا، جہاں 2026 کے پہلے بیچ کے 124 نئے امیگریشن افسران نے بنیادی اور اعلیٰ سطح کی تربیت مکمل کی۔ تقریب میں وزارت داخلہ کے چیف سیکریٹری داتوک ڈاکٹر آوانگ علیک جمان نے بھی شرکت کی۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ اس وقت ملک میں موجود تمام پناہ گزینوں کی جامع رجسٹریشن کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں یو این ایچ سی آر کارڈ ہولڈرز بھی شامل ہیں۔ یہ عمل پہلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور رواں سال کے اختتام تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
محکمہ امیگریشن کے سربراہ کے مطابق حکومت اب پناہ گزینوں کی تعداد جاننے کے لیے صرف یو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار پر انحصار نہیں کرنا چاہتی بلکہ اپنی آزاد رجسٹریشن اور تصدیقی کارروائی بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار کے مطابق ملائیشیا میں 140 سے زائد ممالک سے تعلق رکھنے والے دو لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ پناہ گزین موجود ہیں، جن میں بڑی تعداد میانمار کے روہنگیا باشندوں کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اداروں کا خیال ہے کہ ملک میں موجود پناہ گزینوں کی اصل تعداد یو این کے ریکارڈ سے زیادہ ہو سکتی ہے، اسی لیے ایک جامع ڈیٹا بیس تیار کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل کی پالیسی سازی اور انتظامی فیصلوں میں درست معلومات استعمال کی جا سکیں۔
ایک اور اہم پیش رفت میں زکریا شعبان نے بتایا کہ 15 جون 2026 تک محکمہ امیگریشن نے ملک بھر میں 5,430 آپریشنز کیے جن کے دوران مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں پر 33,145 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ ان خلاف ورزیوں میں سوشل وزٹ پاس کا غلط استعمال کرتے ہوئے ملازمت یا کاروبار کرنا بھی شامل ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 868 آجروں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی جن میں 825 مقامی اور 43 غیر ملکی آجر شامل تھے۔ ان افراد پر غیر قانونی طور پر ایسے غیر ملکی کارکنان کو ملازمت دینے یا تحفظ فراہم کرنے کا الزام تھا جن کے پاس قانونی ورک پرمٹ یا درست دستاویزات موجود نہیں تھیں۔
زکریا شعبان کے مطابق تقریباً 95 فیصد ایسے آجر مقامی شہری تھے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے کو صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے حل نہیں کر سکتے بلکہ آجروں کی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ اگر کوئی شخص غیر قانونی کارکنوں کو ملازمت دیتا ہے تو وہ اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
محکمہ امیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق 14 جون تک ملک بھر کے امیگریشن حراستی مراکز میں 22,151 افراد موجود تھے۔ یہ اعداد و شمار ملائیشیا میں غیر قانونی امیگریشن اور پناہ گزینوں کے معاملات کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے چیف سیکریٹری داتوک ڈاکٹر آوانگ علیک جمان نے کہا کہ وزارت اپنے ماتحت اداروں میں کسی بھی قسم کی بدعنوانی، بدانتظامی یا نظم و ضبط کی خلاف ورزی برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کسی اہلکار کے خلاف شکایت موصول ہوتی ہے تو تحقیقات مکمل ہونے تک اسے عارضی طور پر فرائض سے ہٹا دیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ امیگریشن محکمے میں حالیہ بھرتیوں کے لیے 14 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، لیکن صرف 124 امیدوار منتخب کیے گئے۔ اس لیے تمام افسران اور اہلکاروں کو اعلیٰ پیشہ ورانہ معیار اور نظم و ضبط برقرار رکھنا ہوگا۔
ملائیشیا میں پناہ گزینوں اور غیر قانونی امیگریشن کا مسئلہ کئی برسوں سے ایک اہم انتظامی اور سماجی موضوع رہا ہے۔ حکومت ایک طرف بین الاقوامی انسانی حقوق کے تقاضوں کو مدنظر رکھتی ہے جبکہ دوسری طرف ملکی قوانین اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ حالیہ رجسٹریشن مہم اور کارروائیاں اسی پالیسی کا حصہ سمجھی جا رہی ہیں۔

COMMENTS