کوالالمپور: ملائیشیا میں زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے درمیان ایک نئی معاشی رپورٹ نے ظاہر کیا ہے کہ ملک کی تقریباً 70.2 فیصد رسمی ا...
کوالالمپور: ملائیشیا میں زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے درمیان ایک نئی معاشی رپورٹ نے ظاہر کیا ہے کہ ملک کی تقریباً 70.2 فیصد رسمی افرادی قوت دسمبر 2025 تک ماہانہ 5000 رنگٹ یا اس سے کم آمدن حاصل کر رہی تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال بڑی تعداد میں خاندانوں کی مالی مشکلات اور قوتِ خرید پر دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔
بینک معمالات ملائیشیا کے چیف اکنامسٹ ڈاکٹر محمد افضانیزم عبدالراشد نے کہا کہ 5000 رنگٹ یا اس سے کم آمدن حاصل کرنے والے افراد ملک کی رسمی افرادی قوت کا سب سے بڑا حصہ ہیں، تاہم یہی طبقہ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر بھی ہو رہا ہے، خصوصاً بڑے شہروں میں رہنے والے خاندان۔
انہوں نے کہا کہ زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات گھریلو قوتِ خرید کو مسلسل متاثر کر رہے ہیں، خاص طور پر ایسے خاندانوں کو جن کے زیر کفالت بچے یا دیگر افراد موجود ہیں۔ ان کے مطابق آمدن میں معمولی اضافے کے باوجود ضروری اشیاء، رہائش، تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات کے اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین نے "بیسک ایکسپینڈیچر فار ڈیسنٹ لیونگ" انڈیکیٹر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کوالالمپور میں 18 سے 29 سال عمر کے ایک شادی شدہ جوڑے کو، جن کے دو بچے ایک سے تین سال کی عمر کے درمیان ہوں، بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے تقریباً 6183 رنگٹ ماہانہ درکار ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر افضانیزم کے مطابق اگر کسی شہری خاندان کی مجموعی ماہانہ آمدن 10000 رنگٹ سے کم ہو تو اسے نہ صرف روزمرہ اخراجات بلکہ ہنگامی حالات، صحت، تعلیم اور مستقبل کی بچت جیسے معاملات میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ مختلف شہروں میں زندگی گزارنے کی لاگت میں نمایاں فرق موجود ہے۔ مثال کے طور پر اسی نوعیت کا ایک خاندان اگر کوالالمپور کے بجائے کوالا ترنگانو میں مقیم ہو تو اس کی بنیادی ضروریات کے لیے تقریباً 3845 رنگٹ ماہانہ درکار ہوں گے۔ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ جغرافیائی محلِ وقوع براہِ راست لوگوں کی قوتِ خرید اور دستیاب آمدن پر اثر انداز ہوتا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق مالی استحکام صرف آمدن کی مقدار پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ مالی نظم و ضبط اور اخراجات کے مؤثر انتظام کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔ ڈاکٹر افضانیزم نے ملائیشین انسالوینسی ڈیپارٹمنٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ذاتی قرضے دیوالیہ پن کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔
ان کے مطابق کاروباری قرضے، گاڑیوں کی فنانسنگ، ہاؤسنگ لون اور کریڈٹ کارڈ قرضے بھی مالی مشکلات پیدا کرنے والے اہم عوامل میں شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم قرضے افراد اور خاندانوں کی مالی سلامتی کو شدید متاثر کر سکتے ہیں۔
دوسری جانب یونیورسٹی سائنس اسلام ملائیشیا کی فیکلٹی آف اکنامکس اینڈ معمالات کے لیکچرر پروفیسر ڈاکٹر نورعدلی رضوان شاہ محمد دالی نے کہا کہ تقریباً 80 فیصد ملائیشین شہری "پے چیک ٹو پے چیک" زندگی گزار رہے ہیں، یعنی ان کی آمدن کا تقریباً پورا حصہ ماہانہ ضروریات پوری کرنے میں خرچ ہو جاتا ہے۔
ان کے مطابق اس صورتحال میں زیادہ تر افراد کے پاس بچت کے لیے بہت کم یا بالکل رقم باقی نہیں بچتی۔ بعض خاندان محدود بچت رکھتے ہیں جبکہ بڑی تعداد ایسی بھی ہے جس کے پاس کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کوئی مالی ذخیرہ موجود نہیں۔
پروفیسر نورعدلی نے کہا کہ فوری قرضوں پر انحصار ہمیشہ شدید مالی بحران کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات کمزور کریڈٹ ہسٹری یا بینکنگ سہولیات تک محدود رسائی بھی اس کی وجہ بنتی ہے۔ تاہم انہوں نے غیر قانونی قرض فراہم کرنے والوں یا "اہ لانگ" سے قرض لینے کے رجحان کے خلاف خبردار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ضرورت مند افراد کو زکوٰۃ اداروں، سماجی بہبود کے محکموں یا خاندانی معاونت جیسے قانونی اور محفوظ ذرائع سے مدد حاصل کرنی چاہیے۔ خوراک، رہائش اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے غیر قانونی قرض دہندگان کا سہارا لینا مالی مسائل کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ اعداد و شمار اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ آمدن اور اخراجات کے درمیان توازن قائم رکھنا ملائیشیا کے ایک بڑے طبقے کے لیے مسلسل چیلنج بنا ہوا ہے۔ بڑھتی مہنگائی، محدود بچت اور قرضوں پر انحصار جیسے عوامل آنے والے برسوں میں بھی معاشی پالیسی سازوں کے لیے اہم توجہ کا مرکز رہ سکتے ہیں۔

COMMENTS