تازہ ترین خبریں

    سنگاپور میں ملازمت کے لیے ماں نے بیٹے کو شیلٹر کے سپرد کر دیا

    ملائیشیا کی ایک 26 سالہ سنگل ماں نے بہتر مستقبل اور معاشی استحکام کی امید میں سنگاپور جا کر ملازمت کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم اس فیصلے کے نتیجے...

    ملائیشیا کی ایک 26 سالہ سنگل ماں نے بہتر مستقبل اور معاشی استحکام کی امید میں سنگاپور جا کر ملازمت کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم اس فیصلے کے نتیجے میں انہیں اپنے سات سالہ بیٹے کو بچوں کی نگہداشت کے ایک شیلٹر میں چھوڑنا پڑا۔ ماں اور بیٹے کی جدائی کی یہ کہانی سوشل میڈیا پر وسیع توجہ حاصل کر رہی ہے اور بہت سے لوگوں کے لیے جذباتی اور سماجی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔

    مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگ شیوپنگ نامی خاتون نے اپنے بیٹے پئی منگ کو صرف 18 سال کی عمر میں جنم دیا تھا۔ ابتدائی برسوں میں بچے کی دیکھ بھال ان کی ایک رشتہ دار خاتون کر رہی تھیں، تاہم بڑھتے ہوئے اخراجات اور مالی دباؤ کے باعث وہ مزید بچے کی ذمہ داری اٹھانے کے قابل نہیں رہیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ کانگ شیوپنگ نے بعد میں دوسری شادی کی اور ان کے مزید دو بچے بھی ہوئے، لیکن یہ شادی بھی کامیاب نہ ہو سکی اور اس وقت ان کی طلاق کا عمل جاری ہے۔ معاشی مشکلات اور محدود وسائل کے باعث انہوں نے سنگاپور میں کام تلاش کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنے بچوں کے لیے بہتر زندگی فراہم کر سکیں۔

    سیلانگور سے پیراک میں واقع بچوں کے نگہداشت مرکز "جاز ہوم" تک کے سفر کے دوران ماں اور بیٹے کے درمیان ہونے والے جذباتی لمحات نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔ روانگی سے قبل سات سالہ بچے نے اپنی والدہ کو پانی کا گلاس پیش کیا اور کہا کہ "امی، پانی پی لیجیے"، جس پر والدہ جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور آبدیدہ ہو گئیں۔

    جب وہ اپنے بیٹے کو شیلٹر میں چھوڑ رہی تھیں تو انہوں نے اسے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ "اچھی طرح پڑھائی کرنا"، "فرمانبردار رہنا"، "اچھا بچہ بننا" اور "شرارت نہ کرنا"۔ یہ منظر وہاں موجود افراد کے لیے بھی انتہائی متاثر کن تھا۔

    بچوں کی نگہداشت کے ادارے جاز ہوم نے بعد میں بچے کی نئی زندگی کے حوالے سے ایک مثبت اپ ڈیٹ بھی جاری کی۔ ادارے کی جانب سے شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں بچے کو باسکٹ بال کھیلتے اور دوسرے بچوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارتے ہوئے دیکھا گیا۔ ادارے کے مطابق شروع میں خاموش اور اداس دکھائی دینے والا بچہ اب کھیل کود اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے کے ذریعے خود کو نئے ماحول سے ہم آہنگ کر رہا ہے۔

    جاز ہوم نے اپنے بیان میں کہا کہ بچوں کی خوشی اکثر سادہ چیزوں سے وابستہ ہوتی ہے، جیسے کھیل، دوستوں کی موجودگی اور حوصلہ افزائی کے چند الفاظ۔ ادارے کا کہنا تھا کہ عوامی توجہ اور ہمدردی کی وجہ سے بچے کو یہ احساس ملا ہے کہ زندگی کی مشکلات کے باوجود وہ تنہا نہیں ہے۔

    یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی زیر بحث آیا، جہاں کئی افراد نے ماں اور بیٹے کی مدد کی خواہش ظاہر کی۔ ایک خاتون صارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پیشکش کی کہ اگر ممکن ہو تو وہ سنگاپور میں ماں اور بچے کے لیے مفت رہائش کا انتظام کرنے میں مدد کرنا چاہتی ہیں تاکہ دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہ سکیں۔

    تاہم متعدد صارفین نے نشاندہی کی کہ معاملہ صرف رہائش کا نہیں بلکہ قانونی امیگریشن قواعد سے بھی جڑا ہوا ہے۔ سنگاپور میں بعض ورک پاس رکھنے والے ملازمین اپنے اہل خانہ کو اپنے ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں رکھتے، جس کی وجہ سے ماں اور بچے کی فوری دوبارہ ملاقات ممکن نہیں ہو سکتی۔

    ماہرین کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا میں روزگار کے بہتر مواقع کی تلاش میں بہت سے والدین سرحد پار ملازمت اختیار کرتے ہیں۔ بعض اوقات معاشی دباؤ اور محدود وسائل کے باعث خاندانوں کو مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں، جن کے اثرات بچوں اور والدین دونوں پر پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے معاملات میں سماجی بہبود کے اداروں اور کمیونٹی سپورٹ سسٹمز کا کردار اہم سمجھا جاتا ہے۔

    یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کی مالی جدوجہد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس حقیقت کو بھی سامنے لاتا ہے کہ بہتر روزگار کی تلاش میں بعض والدین کو اپنے بچوں سے عارضی طور پر دور رہنے جیسے کٹھن فیصلے بھی کرنا پڑتے ہیں۔

    COMMENTS

    Name

    Business,7,Current Affairs,319,Employment News,79,Events and Festivals,3,Immigration Operations,238,Legal Rights,14,Life and Finances,12,Malaysian Culture,2,PR and MM2H,2,Student Visa,1,Top Destinations,2,Tourism Updates,8,Travel Tips,2,Visa Updates,13,
    ltr
    item
    نوید سحر: سنگاپور میں ملازمت کے لیے ماں نے بیٹے کو شیلٹر کے سپرد کر دیا
    سنگاپور میں ملازمت کے لیے ماں نے بیٹے کو شیلٹر کے سپرد کر دیا
    https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEi0H3Ky3Rhm1iIxWy6VFbsOaSORXY-lrphNUkPCx9K20pgPQFH2p16H6AxIxSwp8UGAuYDyYtTZJWFQfTMLi5MociBEWoJC2OSfbvAD5Ar4G6BXymKqzhJo78Tgg46_UeLXaqhJA3ZztoCgKQ3Pl0q9IJIefKRVZAPlGfqINrmEvzyLhL5FVKcDHbhu_oE/s320/212687.jpg
    https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEi0H3Ky3Rhm1iIxWy6VFbsOaSORXY-lrphNUkPCx9K20pgPQFH2p16H6AxIxSwp8UGAuYDyYtTZJWFQfTMLi5MociBEWoJC2OSfbvAD5Ar4G6BXymKqzhJo78Tgg46_UeLXaqhJA3ZztoCgKQ3Pl0q9IJIefKRVZAPlGfqINrmEvzyLhL5FVKcDHbhu_oE/s72-c/212687.jpg
    نوید سحر
    https://urdu.naveedeseher.com/2026/06/malaysian-single-mother-leaves-son-in-shelter-to-work-in-singapore-for-better-future.html
    https://urdu.naveedeseher.com/
    http://urdu.naveedeseher.com/
    http://urdu.naveedeseher.com/2026/06/malaysian-single-mother-leaves-son-in-shelter-to-work-in-singapore-for-better-future.html
    true
    6715705184017377069
    UTF-8
    Loaded All Posts Not found any posts VIEW ALL Readmore Reply Cancel reply Delete By Home PAGES POSTS View All RECOMMENDED FOR YOU LABEL ARCHIVE SEARCH ALL POSTS Not found any post match with your request Back Home Sunday Monday Tuesday Wednesday Thursday Friday Saturday Sun Mon Tue Wed Thu Fri Sat January February March April May June July August September October November December Jan Feb Mar Apr May Jun Jul Aug Sep Oct Nov Dec just now 1 minute ago $$1$$ minutes ago 1 hour ago $$1$$ hours ago Yesterday $$1$$ days ago $$1$$ weeks ago more than 5 weeks ago Followers Follow THIS PREMIUM CONTENT IS LOCKED STEP 1: Share to a social network STEP 2: Click the link on your social network Copy All Code Select All Code All codes were copied to your clipboard Can not copy the codes / texts, please press [CTRL]+[C] (or CMD+C with Mac) to copy Table of Content
    💬 Whatsapp

    Install Naveed e Seher App

    All-in-One Portal For Foreign Workers

    ✔ Visa Check
    ✔ Latest Jobs
    ✔ Immigration News
    ✔ Urdu and English News
    Install Now
    Continue To Website