اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاسپورٹ اور امیگریشن خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ملک میں مرحلہ وار مکمل ای پاسپورٹ نظام متعارف کر...
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پاسپورٹ اور امیگریشن خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ملک میں مرحلہ وار مکمل ای پاسپورٹ نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاسپورٹ کے اجرا کے عمل کو زیادہ محفوظ، شفاف، مؤثر اور شہریوں کے لیے آسان بنانا ہے۔
اس حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں پاسپورٹ اور امیگریشن نظام میں جاری اصلاحات اور مستقبل کے منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ موجودہ پاسپورٹ نظام کو مرحلہ وار مکمل طور پر ای پاسپورٹ فریم ورک میں تبدیل کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق ای پاسپورٹ نظام کے نفاذ سے دستاویزات کی جعل سازی اور دھوکہ دہی کے امکانات میں نمایاں کمی آئے گی جبکہ شناختی معلومات کی تصدیق کا عمل بھی مزید مؤثر ہو جائے گا۔ تاہم حکومت کی جانب سے ابھی تک موجودہ روایتی پاسپورٹس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کوئی حتمی مدت مقرر نہیں کی گئی۔
اجلاس کے دوران ڈی جی پاسپورٹس اینڈ امیگریشن محمد علی رندھاوا نے وزیر داخلہ کو جاری اصلاحاتی اقدامات اور مستقبل کے مجوزہ منصوبوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر مختلف سروسز کو ڈیجیٹل بنانے اور شہری سہولتوں میں اضافے کے لیے متعدد فیصلے کیے گئے۔
حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ پریمیم پاسپورٹ سروسز استعمال کرنے والے شہریوں سے متعلقہ سہولت کی حقیقی لاگت کے مطابق فیس وصول کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے خدمات کی فراہمی کے نظام کو زیادہ پائیدار اور شفاف بنانے میں مدد ملے گی۔
اجلاس میں پاسپورٹ کی ہوم ڈیلیوری سروس کے آغاز کا بھی اعلان کیا گیا۔ وزارت داخلہ کے مطابق اس منصوبے کی تمام ابتدائی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور جلد ہی ملک کے اندر اور بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے پاسپورٹ گھر بیٹھے وصول کر سکیں گے۔ اس سہولت سے شہریوں کو دفاتر کے متعدد چکر لگانے کی ضرورت کم ہو جائے گی اور وقت کی بچت ہوگی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے اجلاس کے دوران ایک اور اہم اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یکم جولائی 2026 سے ملک بھر کے پاسپورٹ دفاتر میں کیش لیس ادائیگی نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس نظام کے تحت فیس کی ادائیگی ڈیجیٹل ذرائع سے کی جا سکے گی جس سے ادائیگی کا عمل زیادہ محفوظ، تیز اور آسان بنے گا۔
اصلاحاتی منصوبے کے تحت آن لائن پاسپورٹ درخواستوں کو بھی موجودہ نظام سے منتقل کر کے پاک آئی ڈی پلیٹ فارم پر لایا جائے گا۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے مختلف قومی شناختی اور سفری خدمات کو ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر منظم کرنے میں مدد ملے گی۔
اجلاس میں کاروباری افراد کے لیے خصوصی بزنس پاسپورٹ پالیسی مرتب کرنے پر بھی غور کیا گیا۔ اس سلسلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی پالیسی تیار کی جائے گی تاکہ کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
وزارت داخلہ کے مطابق ای پاسپورٹ ایک جدید اور انتہائی محفوظ سفری دستاویز ہے جس میں ایک الیکٹرانک چپ نصب ہوتی ہے۔ یہ چپ پاسپورٹ ہولڈر کی بائیومیٹرک معلومات، ذاتی کوائف، منفرد شناختی نمبر اور ڈیجیٹل دستخط محفوظ رکھتی ہے۔ اس کے ذریعے امیگریشن حکام مسافر کی شناخت کی تصدیق زیادہ مؤثر انداز میں کر سکتے ہیں۔
ای پاسپورٹ میں استعمال ہونے والی این ایف سی (نیئر فیلڈ کمیونیکیشن) ٹیکنالوجی کی بدولت دستاویز کو بغیر رابطے کے الیکٹرانک طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔ یہ سہولت دنیا بھر کے جدید ہوائی اڈوں اور بارڈر کنٹرول سسٹمز کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے۔
پاکستان کے حالیہ ای پاسپورٹس کو اقوام متحدہ کے بین الاقوامی شہری ہوابازی ادارے (آئی سی اے او) کے عالمی معیار کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ اس سے پاکستانی شہریوں کے سفری دستاویزات بین الاقوامی سطح پر زیادہ قابل اعتماد اور محفوظ تصور کیے جائیں گے۔
ڈیجیٹل اصلاحات کا یہ سلسلہ حکومت کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت مختلف عوامی خدمات کو آن لائن اور جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ بنایا جا رہا ہے۔ پاسپورٹ نظام میں یہ تبدیلی نہ صرف شہری سہولتوں میں اضافہ کرے گی بلکہ قومی سطح پر دستاویزات کے تحفظ اور انتظامی شفافیت کو بھی بہتر بنانے میں مدد دے گی۔

COMMENTS