کوالالمپور: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کو جس ملک میں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، وہاں کے قو...
کوالالمپور: اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے کہا ہے کہ پناہ گزینوں کو جس ملک میں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے، وہاں کے قوانین کا احترام اور ان پر عمل کرنا لازمی ہے۔ ادارے کے مطابق پناہ گزین کسی بھی ملک کے قانون سے بالاتر نہیں ہوتے اور میزبان ملک اور پناہ گزینوں کے درمیان باہمی احترام اور ذمہ داری کا ایک واضح تعلق موجود ہوتا ہے۔
ملائیشیا میں یو این ایچ سی آر کی نمائندہ لوئس اوبن نے عالمی یومِ پناہ گزین کے موقع پر کوالالمپور میں منعقدہ "کوالالمپور کانفرنس: پناہ گزینوں کے ساتھ یکجہتی" کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام پناہ گزینوں پر میزبان ملک کے قوانین کی پابندی لازم ہے۔ ان کے مطابق پناہ گزینوں کو تحفظ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ یہ توقع بھی وابستہ ہوتی ہے کہ وہ مقامی قوانین اور ضوابط کی مکمل پاسداری کریں گے۔
یہ کانفرنس گلوبل پیس مشن (جی پی ایم) ملائیشیا اور انگکتن بیلیا اسلام ملائیشیا نے مشترکہ طور پر منعقد کی، جبکہ اس میں انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسلامک اسٹڈیز ملائیشیا نے بھی تعاون کیا۔
اپنی گفتگو کے دوران لوئس اوبن نے عوامی سطح پر پناہ گزینوں، خصوصاً روہنگیا برادری سے متعلق پائے جانے والے خدشات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یو این ایچ سی آر کسی فرد کو پناہ گزین کا درجہ دینے سے قبل سخت اور تفصیلی جانچ پڑتال کا عمل اختیار کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر وہ شخص جو ملائیشیا آتا ہے، لازمی طور پر پناہ گزین قرار نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے بتایا کہ یو این ایچ سی آر امیدواروں کے تفصیلی انٹرویوز کرتا ہے اور ان کی فراہم کردہ معلومات کو دنیا بھر میں موجود اپنے مختلف دفاتر کے ذریعے جانچتا اور تصدیق کرتا ہے۔ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ درخواست گزار واقعی وہی شخص ہے جو اپنی شناخت بیان کر رہا ہے اور اس کے ملک چھوڑنے کی وجوہات درست اور قابلِ تصدیق ہیں۔
لوئس اوبن نے کہا کہ اس طرح کی جامع جانچ پڑتال پناہ گزینوں کے نظام کی شفافیت اور ساکھ برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ان کے مطابق درست شناخت اور حقائق کی تصدیق کے بغیر کسی کو پناہ گزین کا درجہ نہیں دیا جاتا۔
انہوں نے ملائیشیا کی جانب سے پناہ گزینوں کے انتظام کو زیادہ منظم بنانے کے اقدامات کا بھی خیرمقدم کیا۔ خاص طور پر "ریفیوجی رجسٹریشن ڈاکیومنٹ پروگرام" کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے پناہ گزینوں کی شناخت، دستاویزات اور بائیومیٹرک معلومات کو منظم انداز میں ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس سے قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔
یو این ایچ سی آر کی نمائندہ کے مطابق ایک مؤثر رجسٹریشن نظام نہ صرف پناہ گزینوں کے تحفظ کو بہتر بناتا ہے بلکہ مستقبل میں ان کے لیے مستقل حل تلاش کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات اس بات کو یقینی بنانے میں مدد دیتے ہیں کہ پناہ گزین غیر معینہ مدت تک بے گھر نہ رہیں اور جب ان کے آبائی ممالک میں حالات سازگار ہوں تو وہ محفوظ طریقے سے واپس جا سکیں۔
ملائیشیا میں پناہ گزینوں کا معاملہ کئی برسوں سے عوامی اور حکومتی بحث کا موضوع رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں حکومت کی جانب سے رجسٹریشن اور نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوششیں کی گئی ہیں تاکہ پناہ گزینوں کے معاملات کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے اور سیکیورٹی خدشات کو کم کیا جا سکے۔ یو این ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ مؤثر انتظامی نظام اور قوانین کی پابندی ہی پناہ گزینوں اور میزبان معاشرے کے درمیان بہتر تعلقات کی بنیاد بن سکتی ہے۔
ادارے کے مطابق پناہ گزینوں کے تحفظ اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم رکھنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے شناختی تصدیق، رجسٹریشن اور قانونی تقاضوں پر عمل درآمد کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔

COMMENTS