سباک برنام: ملائیشیا کی ریاست سیلانگور کے علاقے سباک برنام میں سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی کے دوران 79 غیر م...
سباک برنام: ملائیشیا کی ریاست سیلانگور کے علاقے سباک برنام میں سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی کے دوران 79 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ گرفتاری سے بچنے کی کوشش میں چھ غیر ملکی ماہی گیروں نے دریا میں چھلانگ لگا دی۔ بعض افراد تقریباً ایک گھنٹے تک پانی میں چھپے رہے، تاہم بعد ازاں انہیں بھی حراست میں لے لیا گیا۔
یہ کارروائی باگان ناخودہ عمر کے ماہی گیر گاؤں اور اس کے ساحلی علاقوں میں کی گئی۔ آپریشن میں ملائیشین پولیس، محکمہ امیگریشن، ملائیشین میری ٹائم انفورسمنٹ ایجنسی (اے پی ایم ایم) اور وزارتِ داخلی تجارت و لاگتِ زندگی (کے پی ڈی این) سمیت متعدد اداروں نے حصہ لیا۔
سیلانگور کے ڈپٹی پولیس چیف ڈی سی پی محمد زینی ابو حسن نے بتایا کہ آپریشن کا آغاز گزشتہ روز دوپہر سے کیا گیا تھا۔ اس دوران ضلع کوالالمپور سیلانگور کے مختلف علاقوں میں بھی کارروائیاں کی گئیں جہاں مجموعی طور پر 125 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ باگان ناخودہ عمر کے ساحلی علاقے کو انسانی اسمگلنگ اور سرحد پار جرائم کے حوالے سے حساس مقام قرار دیا گیا تھا، جس کے بعد وہاں خصوصی آپریشن شروع کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس علاقے میں غیر قانونی نقل و حرکت، غیر دستاویزی تارکین وطن کی آمد اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔
کارروائی کے دوران مختلف امیگریشن خلاف ورزیاں سامنے آئیں جن میں غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت دینا یا پناہ فراہم کرنا، درست سفری دستاویزات پیش نہ کرنا، مقررہ مدت سے زیادہ قیام، وزٹ پاس کا غلط استعمال اور غیر قانونی راستوں سے ملک میں داخل ہونا شامل ہیں۔
محمد زینی ابو حسن کے مطابق گرفتار کیے گئے افراد کی عمریں 18 سے 60 سال کے درمیان ہیں۔ ان میں 69 مرد اور 10 خواتین شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس نے سات مقامی مردوں کو بھی حراست میں لیا ہے جن پر انسانی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ اس کے علاوہ 28 غیر ملکی ایسے بھی گرفتار کیے گئے جو مبینہ طور پر سباک برنام کے سمندری راستوں سے غیر قانونی طور پر ملائیشیا میں داخل ہوئے تھے۔
حکام کے مطابق اس مشترکہ آپریشن میں ریاستی سطح کے آٹھ مختلف سکیورٹی اور نفاذِ قانون کے اداروں نے حصہ لیا۔ کارروائی کا ایک اہم مقصد ان طریقہ کاروں کی نشاندہی کرنا بھی تھا جن کے ذریعے غیر قانونی تارکین وطن کو سیلانگور کے ساحلی علاقوں میں لایا جاتا ہے۔
آپریشن کے دوران ایک اور اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزارتِ داخلی تجارت و لاگتِ زندگی (کے پی ڈی این) نے ڈیزل سے متعلق دو الگ مقدمات بھی بے نقاب کیے۔ یہ مقدمات سپلائی کنٹرول ایکٹ 1961 کے تحت درج کیے گئے ہیں اور ان کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایسے مشترکہ آپریشنز مرحلہ وار اور مستقل بنیادوں پر جاری رکھے جائیں گے تاکہ ملکی سمندری حدود کی حفاظت، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام اور قومی خودمختاری کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
پولیس نے عوام اور کاروباری اداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کو پناہ دینے یا ملازمت فراہم کرنے سے گریز کریں۔ اسی طرح سرحد پار جرائم یا انسانی اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
محمد زینی ابو حسن نے کہا کہ قومی سلامتی صرف حکومتی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ عوام بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ اگر انہیں کسی مشتبہ سرگرمی یا غیر قانونی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات ہوں تو متعلقہ اداروں کو فوری طور پر آگاہ کریں۔

COMMENTS