پوتراجایا : ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے سیلانگور میں ایک خصوصی نفاذی کارروائی کے دوران مختلف امیگریشن قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر 62 غ...
پوتراجایا : ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے سیلانگور میں ایک خصوصی نفاذی کارروائی کے دوران مختلف امیگریشن قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر 62 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی 15 جون کو انٹیلی جنس معلومات اور عوامی شکایات کی بنیاد پر کی گئی۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتک زکریا شعبان نے ایک بیان میں کہا کہ آپریشن میں 30 نفاذی افسران نے حصہ لیا۔ کارروائی سیبرجایا، بندر سری پترا، بندر ٹیکنالوجی کاجانگ، سری کمبنگن، سپانگ اور ڈینگکل کے مختلف علاقوں میں کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران مجموعی طور پر 17 مقامات کا معائنہ کیا گیا جن میں فرنیچر فیکٹریاں، آرا مشین کے کارخانے، کھانے پینے کے مراکز، کریانہ دکانیں اور وہ مقامات شامل تھے جہاں غیر ملکی شہریوں کی آمدورفت زیادہ دیکھی جاتی ہے۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق کارروائی کے دوران 210 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی جن میں مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی افراد بھی شامل تھے۔ اس دوران 62 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا جن پر امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت مختلف خلاف ورزیوں کا شبہ ہے۔
ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ بعض زیر حراست افراد نے انہیں جاری کیے گئے ویزا یا پاس کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ حکام کے مطابق کچھ افراد ایسے کاموں میں مصروف پائے گئے جو ان کے ملک میں داخلے کے اصل مقصد سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔
زکریا شعبان نے مزید بتایا کہ محکمہ امیگریشن نے 11 آجروں کو بھی سمن جاری کیے ہیں تاکہ غیر ملکی کارکنوں کی ملازمت اور امیگریشن قوانین کی پابندی کے حوالے سے مزید تحقیقات کی جا سکیں۔ حکام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا متعلقہ کمپنیاں اور آجر غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے دوران قانونی تقاضوں پر مکمل عمل کر رہے تھے یا نہیں۔
تمام گرفتار غیر ملکی شہریوں کو مزید کارروائی، دستاویزات کی تصدیق اور تفتیش کے لیے پوتراجایا امیگریشن ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ ہر کیس کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے گا اور قانون کے مطابق ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکن مختلف شعبوں خصوصاً تعمیرات، مینوفیکچرنگ، زراعت اور خدمات کے شعبے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم حکومت وقتاً فوقتاً ایسے نفاذی آپریشنز کرتی ہے تاکہ غیر قانونی ملازمت، ویزا شرائط کی خلاف ورزی اور دیگر امیگریشن مسائل کی روک تھام کی جا سکے۔
محکمہ امیگریشن نے آجروں کو ایک بار پھر یاد دہانی کرائی ہے کہ وہ غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی اور ملازمت کے حوالے سے تمام قانونی شرائط پر عمل کریں۔ بیان میں خبردار کیا گیا کہ ایسے افراد یا اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جو غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو پناہ دیتے ہیں، انہیں ملازمت فراہم کرتے ہیں یا امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی میں معاونت کرتے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں امیگریشن قوانین کے نفاذ کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایسے آپریشنز مستقبل میں بھی جاری رکھے جائیں گے تاکہ قانونی اور منظم افرادی قوت کے نظام کو برقرار رکھا جا سکے۔

COMMENTS