سنگاپور میں 100 سے زائد غیر ملکی کارکن مبینہ طور پر دو ماہ کی غیر ادا شدہ تنخواہوں کے معاملے پر وزارت افرادی قوت کے سروس سینٹر پہنچ گئے۔ مت...
سنگاپور میں 100 سے زائد غیر ملکی کارکن مبینہ طور پر دو ماہ کی غیر ادا شدہ تنخواہوں کے معاملے پر وزارت افرادی قوت کے سروس سینٹر پہنچ گئے۔ متاثرہ کارکنوں کا تعلق بنیادی طور پر بھارت اور بنگلہ دیش سے بتایا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ کارکن ایئر کنڈیشننگ کنٹریکٹر کمپنی کے پی اے انجینئرنگ سے وابستہ تھے۔ کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ انہیں گزشتہ دو ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں، جس کے باعث وہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔
پیر کی صبح 22 جون کو بڑی تعداد میں کارکن بینڈیمیئر میں واقع وزارت افرادی قوت کے سروس سینٹر پہنچے، جہاں متعلقہ حکام نے انہیں عمارت کے اندر لے جا کر صورتحال کا جائزہ لینا شروع کیا۔
متاثرہ کارکنوں میں سے ایک نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ انہیں حال ہی میں معلوم ہوا کہ کمپنی نے اپنی سرگرمیاں بند کر دی ہیں۔ ان کے مطابق، "ہمیں خدشہ ہے کیونکہ کافی عرصے سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں اور چند روز قبل ہی کمپنی کے بند ہونے کی خبر ملی۔"
اس معاملے پر ٹرائی پارٹائٹ الائنس ڈسپیوٹ مینجمنٹ کی جنرل منیجر نگ ہوئی من نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ کارکن کے پی اے انجینئرنگ اور ایس کے انڈسٹریز سے تعلق رکھنے والے ورک پرمٹ ہولڈرز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت حکام کی اولین ترجیح متاثرہ کارکنوں کو ضروری مدد فراہم کرنا ہے تاکہ اس مشکل صورتحال میں ان کی بنیادی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
نگ ہوئی من کے مطابق وزارت افرادی قوت اور مائگرینٹ ورکرز سینٹر مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں تاکہ متاثرہ کارکنوں کو مناسب رہائش کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ انہیں عارضی طور پر دیگر ملازمتیں تلاش کرنے کی بھی اجازت دی جائے گی، اگر وہ سنگاپور میں کام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ وزارت افرادی قوت دونوں کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کر رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا روزگار سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔ اگر کسی قسم کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو متعلقہ اداروں کے خلاف قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے گی۔
یہ معاملہ سنگاپور میں غیر ملکی کارکنوں کے حقوق اور مزدور قوانین کے نفاذ کے حوالے سے ایک اہم مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ سنگاپور میں تعمیرات، انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکن کام کرتے ہیں، اور حکومت کی جانب سے ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مختلف قوانین اور نگرانی کے نظام موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق تنخواہوں کی بروقت ادائیگی ملازمت کے بنیادی حقوق میں شامل ہے، اور ایسے معاملات نہ صرف کارکنوں کی مالی حالت کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ان کے رہائشی اور روزمرہ اخراجات پر بھی براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔
فی الحال معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور حکام کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کے پی اے انجینئرنگ سے بھی مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس واقعے نے غیر ملکی کارکنوں کی فلاح و بہبود، روزگار کے تحفظ اور کمپنیوں کی ذمہ داریوں سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کو قانونی اور انتظامی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

COMMENTS