کوتا کنابالو: ملائیشیا کی ایک عدالت نے کاروباری تنازعے کے دوران اپنے ہم وطن کو زخمی کرنے کے جرم میں تین پاکستانی شہریوں پر جرمانہ عائد کر...
کوتا کنابالو: ملائیشیا کی ایک عدالت نے کاروباری تنازعے کے دوران اپنے ہم وطن کو زخمی کرنے کے جرم میں تین پاکستانی شہریوں پر جرمانہ عائد کر دیا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق تینوں افراد نے جرم کا اعتراف کیا، جس کے بعد انہیں قید کے متبادل کے طور پر مالی جرمانہ ادا کرنے کی سزا سنائی گئی۔
کوتا کنابالو کی مجسٹریٹ عدالت نے جمعہ کے روز 46 سالہ دکاندار ثناء اللہ، 40 سالہ کاروباری شخصیت لطیف اللہ اور 48 سالہ محمد داؤد کو ایک ایک ہزار آٹھ سو ملائیشین رنگٹ جرمانے کی سزا سنائی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو ہر ملزم کو چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔
عدالتی کارروائی کے دوران بتایا گیا کہ تینوں ملزمان نے تلپوک کے علاقے میں واقع شایان انٹرپرائز نامی کاروباری مقام پر اپنے ہم وطن محمد عدنان زائراللہ خان کو مشترکہ طور پر جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ یہ واقعہ رواں سال 18 مئی کو صبح تقریباً ساڑھے آٹھ بجے پیش آیا۔
استغاثہ کے مطابق ملزمان متاثرہ شخص اور شکایت کنندہ سے کاروباری معاملات پر بات چیت کرنے کے لیے مذکورہ مقام پر پہنچے تھے۔ تاہم دورانِ گفتگو ایک غلط فہمی پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں بحث و تکرار شروع ہوگئی۔ بتایا گیا کہ متاثرہ شخص نے ثناء اللہ کو سخت الفاظ میں مخاطب کیا، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی اور تینوں ملزمان نے مبینہ طور پر اس پر حملہ کر دیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ایک عینی شاہد، جو اس مقدمے میں شکایت کنندہ بھی تھا، نے جھگڑا ختم کرانے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ جھگڑے کے نتیجے میں متاثرہ شخص کے سر، سینے، بائیں بازو اور بائیں ٹانگ پر چوٹیں آئیں۔
پولیس نے واقعے کی تحقیقات کے بعد 21 مئی کو تینوں افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ان پر تعزیراتِ ملائیشیا کی دفعہ 323 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کا تعلق جان بوجھ کر جسمانی نقصان پہنچانے سے ہے۔ ان پر دفعہ 34 بھی لاگو کی گئی، جو مشترکہ ارادے کے تحت جرم کے ارتکاب سے متعلق ہے۔
قانون کے مطابق اس جرم میں سزا یافتہ شخص کو ایک سال تک قید، دو ہزار رنگٹ تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ تاہم عدالت نے جرم کے اعتراف اور دیگر حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جرمانے کی سزا سنائی۔
ملزمان کے وکیل لم منگ زونگ المعروف لارنس نے عدالت سے نرم سزا کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ تینوں افراد کے پاس قانونی سفری دستاویزات موجود ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزمان مقامی خواتین سے شادی شدہ ہیں اور ان کے خاندان اور بچے ریاست صباح میں مقیم ہیں۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ ان سماجی اور خاندانی حالات کو سزا کے تعین میں مدنظر رکھا جائے۔
دوسری جانب استغاثہ کی نمائندگی کرنے والے انسپکٹر محمد حمیدی محمد حمزہ نے عدالت سے کہا کہ ایسے مقدمات میں بازدار نوعیت کی سزا ضروری ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
یہ مقدمہ اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ کاروباری یا مالی تنازعات کو پرامن اور قانونی طریقوں سے حل کرنا ضروری ہے۔ ماہرین کے مطابق ذاتی اختلافات یا کاروباری تنازعات کو تشدد میں تبدیل کرنے سے نہ صرف قانونی مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ متعلقہ افراد کی سماجی اور پیشہ ورانہ زندگی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں اور کاروباری افراد کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے، جن میں پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ مقامی قوانین کے مطابق تمام افراد، خواہ وہ شہری ہوں یا غیر ملکی، قانون کی نظر میں برابر ہیں اور کسی بھی قسم کے تشدد یا مجرمانہ عمل پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
عدالت کے اس فیصلے کو قانون کی عملداری اور تنازعات کے قانونی حل کی اہمیت کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی اختلاف کو تشدد کے بجائے مذاکرات اور قانونی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ معاشرتی امن اور قانون کی بالادستی برقرار رہے۔

COMMENTS