کوالالمپور، 18 جون دنیا کی سب سے بڑی دستانے بنانے والی کمپنی ٹاپ گلوو کارپوریشن برہاد نے آٹومیشن اور پیداواری صلاحیت میں بہتری کے ذریعے ا...
کوالالمپور، 18 جون دنیا کی سب سے بڑی دستانے بنانے والی کمپنی ٹاپ گلوو کارپوریشن برہاد نے آٹومیشن اور پیداواری صلاحیت میں بہتری کے ذریعے افرادی قوت پر اپنے انحصار کو تقریباً نصف کر دیا ہے۔
کمپنی کے ایگزیکٹو چیئرمین تان سری لم وی چائی نے بتایا کہ کووڈ-19 وبا سے قبل ہر ایک ملین دستانے تیار کرنے کے لیے تقریباً 3.5 سے 4 ملازمین درکار ہوتے تھے، جبکہ اب یہی کام صرف 1.7 سے 1.8 ملازمین کی مدد سے انجام دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ کمپنی کی مجموعی افرادی قوت 15 ہزار سے زائد ملازمین سے کم ہو کر تقریباً 10 ہزار رہ گئی ہے، اس کے باوجود پیداوار میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق یہ کامیابی آٹومیشن، آپریشنل بہتری، پیداواری استعداد میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا نتیجہ ہے۔
ٹاپ گلوو کے منیجنگ ڈائریکٹر لم چیونگ گوان نے کہا کہ لیبر کی کمی اب بھی صنعت کے لیے ایک چیلنج ہے، تاہم کمپنی نے پیداواری عمل میں بہتری، مشینوں کی رفتار میں اضافے، ڈاؤن ٹائم میں کمی، خرابیوں کے تدارک اور ضیاع کم کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے اس مسئلے کے اثرات کو محدود کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کمپنی اب آٹومیشن کے اگلے مرحلے پر کام کر رہی ہے جس سے مستقبل میں مزید کم افرادی قوت کے ساتھ زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکے گی۔
کمپنی مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ لم چیونگ گوان کے مطابق مصنوعی ذہانت کو پیداواری عمل، کوالٹی کنٹرول اور انتظامی شعبوں میں متعارف کروا کر مزید کارکردگی اور استعداد حاصل کی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت میں کمی اور کارکردگی میں اضافہ ملائیشیا کی دستانہ ساز صنعت کو چین، تھائی لینڈ، ویتنام اور انڈونیشیا جیسے ممالک کے مقابلے میں مسابقتی برتری فراہم کر سکتا ہے۔
مالی نتائج کے مطابق ٹاپ گلوو کا خالص منافع مالی سال 2026 کی تیسری سہ ماہی میں بڑھ کر 80.9 ملین رنگٹ ہو گیا، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 34.7 ملین رنگٹ کے مقابلے میں دوگنا سے زائد ہے۔
کمپنی کی سہ ماہی آمدنی بھی 830 ملین رنگٹ سے بڑھ کر ایک ارب رنگٹ تک پہنچ گئی، جبکہ مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران مجموعی آمدنی 3 ارب رنگٹ ریکارڈ کی گئی۔
ٹاپ گلوو نے شعبے کے مستقبل کے حوالے سے مثبت توقعات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر دستانوں کی طلب میں سالانہ تقریباً 10 فیصد اضافہ متوقع ہے اور سپلائی و طلب کے درمیان توازن وبا کے بعد کے دور کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہو چکا ہے۔

COMMENTS