کوالالمپور: اکثر لوگ اس صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں کہ پارکنگ یا وینڈنگ مشین میں 1 رنگٹ کا نوٹ ڈالنے کے باوجود مشین اسے قبول نہیں کرتی اور و...
کوالالمپور: اکثر لوگ اس صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں کہ پارکنگ یا وینڈنگ مشین میں 1 رنگٹ کا نوٹ ڈالنے کے باوجود مشین اسے قبول نہیں کرتی اور واپس باہر نکال دیتی ہے۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ ایسا نوٹ کے پرانے، مڑے ہوئے یا خراب ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے، لیکن ایک رپورٹ کے مطابق اس کی ایک اور تکنیکی وجہ بھی ہو سکتی ہے۔
یہ معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بنا جب ایک سوشل میڈیا صارف نے بتایا کہ بعض وینڈنگ اور پارکنگ مشینیں صرف ان 1 رنگٹ نوٹوں کو قبول کرتی ہیں جن پر سابق گورنر بینک نگارا ملائیشیا، ڈاکٹر زیتی اختر عزیز کے دستخط موجود ہوں۔ ان کے مطابق بعض مشینیں بعد میں جاری ہونے والے نوٹ، جن پر محمد بن ابراہیم کے دستخط ہیں، قبول نہیں کرتیں۔
رپورٹ کے مطابق خاتون نے یہ بات اس وقت جانی جب وہ ایک وینڈنگ مشین سے مشروب خریدنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ متعدد کوششوں کے باوجود مشین نے ان کا 1 رنگٹ نوٹ قبول نہیں کیا۔ بعد ازاں وہاں موجود ایک ملازم نے انہیں بتایا کہ بعض مشینیں مخصوص دستخط والے نوٹوں کو ہی قبول کرتی ہیں۔
اس دعوے کے بعد کئی دیگر صارفین نے بھی اپنے تجربات شیئر کیے۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ پہلے سمجھتے تھے کہ مشین نوٹ کو جعلی یا بہت زیادہ خراب تصور کر رہی ہے، جبکہ اصل وجہ کچھ اور نکلی۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں بھی ایسے واقعات سامنے آئے جن میں بعض مشینوں پر واضح طور پر درج تھا کہ وہ صرف مخصوص دستخط والے 1 رنگٹ نوٹ قبول کرتی ہیں۔ اس سے یہ تاثر ملا کہ مسئلہ ہر مشین میں موجود نہیں بلکہ صرف کچھ پرانی یا اپ ڈیٹ نہ ہونے والی مشینوں تک محدود ہے۔
اس حوالے سے سابق سافٹ ویئر انجینئر اور سوشل میڈیا صارف نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ وینڈنگ اور پارکنگ مشینوں میں ایک مخصوص "فرم ویئر" نصب ہوتا ہے، جس میں مختلف کرنسی نوٹوں کی شناخت کے لیے پروگرامنگ کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب کوئی صارف نوٹ مشین میں داخل کرتا ہے تو مشین کا "نوٹ ایکسیپٹر" اس نوٹ کے ڈیزائن، پیٹرن اور دیگر خصوصیات کو اسکین کرتا ہے اور انہیں اپنے ڈیٹا بیس میں محفوظ معلومات سے ملاتا ہے۔ اگر مشین کے سافٹ ویئر میں نئے ڈیزائن یا نئی سیریز کے نوٹوں کی معلومات شامل نہ ہوں تو وہ انہیں مسترد کر سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق نوٹ کی شناخت صرف اس کے ڈیزائن تک محدود نہیں ہوتی بلکہ مشینیں اس کے سائز، موٹائی اور بعض دیگر جسمانی خصوصیات کو بھی چیک کرتی ہیں۔ یہی اصول سکوں پر بھی لاگو ہوتا ہے جہاں قطر، موٹائی اور کناروں کی ساخت کو جانچا جاتا ہے۔
یہ صورتحال دراصل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید خودکار مشینوں کو وقتاً فوقتاً سافٹ ویئر اپ ڈیٹس کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ نئے کرنسی نوٹوں اور سکوں کو درست طریقے سے شناخت کر سکیں۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو صارفین کو ادائیگی کے دوران مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
اگرچہ یہ مسئلہ عام طور پر وسیع پیمانے پر نہیں پایا جاتا، لیکن بعض مقامات پر نصب پرانی مشینوں میں اس قسم کی خرابی سامنے آ سکتی ہے۔ ایسے حالات میں صارفین متبادل نوٹ استعمال کر سکتے ہیں یا متعلقہ انتظامیہ کو مشین کے اپ ڈیٹ نہ ہونے کی اطلاع دے سکتے ہیں۔

COMMENTS